خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 120

خطبات طاہر جلد 14 120 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء ان کا ترجمہ ہی نہیں ہے تو وہ کیا کریں بے چارے۔ان کو سمجھ ہی نہیں آتی۔بعض تبر گیٹھ جاتے ہیں سامنے بس۔کچھ ثواب حاصل کر کے چلے جاتے ہیں لیکن علمی فائدہ ، دینی فائدہ ان کو کچھ نہیں پہنچتا۔جو دیکھنے والے ہیں وہ وہ ہیں جن کو یا اردو آتی ہے یعنی غیر احمدی جو ہم نے جائزہ لیا ہے یا انگریزی دان ہیں بعض ان میں سے بہت محظوظ ہورہے ہیں اور بعض اپنے اپنے خط بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے یہ دیکھا ہے پروگرام، بہت ہی فائدہ اٹھایا ہے۔مگر جو اصل غرض تھی کہ جماعت کی تربیت ہو جائے اس سے محرومی ہے اور بار بار یاد دہانی کے باوجود ابھی تک ان کی طرف سے کوئی بنگلہ پروگرام نہیں آرہے۔اب یہ وعدہ ملا ہے کہ ہم نئے پروگرام بنائیں گے۔نئے تو بنا ئیں گے جو پہلے بن چکے ہیں ان کا کیا بنا؟ ان میں سب سے اہم ضرورت خطبات کے ترجمے کی ہے کیونکہ خطبات کے ذریعے ایک عالمی جماعت ایک نفس واحدہ کی طرح تیار ہو رہی ہے اور یہ بعثت ثانیہ میں نفس واحدہ دوبارہ بننا بہت ہی ضروری ہے۔جب تک ہم تو حید کا ایک منظر اس زمین پر پیش نہیں کرتے اس وقت تک حقیقت میں توحید کا غلبہ دنیا میں ہو نہیں سکتا اور ساری جماعت کا مزاج ایک ہونا چاہئے ،ساری جماعت کی سوچیں ایک طرح ہونی چاہئیں، ان کے اخلاق ایک جیسے ہونے چاہئیں اور دینی بنیادی علم میں سب کو کچھ نہ کچھ حصہ ملنا چاہئے اور MTA کے ذریعے وہ کام آسان ہو گیا جو بالکل ناممکن دکھائی دیا کرتا تھا۔یہاں تک کہ جہاں یہ آواز پہنچ رہی ہے اور لوگ فائدے اٹھا رہے ہیں ایک جگہ سے نہیں ساری دنیا سے کثرت سے بعض ایک کہتے ہیں کہ ہم تو احمدی سمجھا کرتے تھے اپنے آپ کو، مگر احمدی تو اب بنے ہیں جب ہم نے MTA کے پروگرام دیکھنے شروع کئے ہیں اب ہمیں پتا لگا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے اور اسلام کی عظمت کس کو کہتے ہیں۔تو یہ پروگرام ایسے نہیں ہیں جن کو آپ خفیف نظر سے دیکھیں یہ ایک روحانی انقلاب پیدا کرنے کے لئے آسمان سے فیض اترا ہے اور اسے ہمیں ہر حالت میں کامیاب بنا نا ہوگا۔پس جو پروگرام پیش کئے جار ہے ہیں ان کے، ان کی زبانوں میں ترجمے اگر نہیں ہوں گے تو ہم کیسے ان قوموں کو فیض پہنچا سکیں گے اور بنگال میں تو ویسے ہی مولویوں نے بڑی سخت مہم شروع کی ہوئی ہے جماعت کی بدنامی کی۔اس کا جواب اگر ٹیلی ویژن کے ذریعے ملے اور بنگلہ دیشی زبان میں ملے تو بہت فائدہ پہنچے گا کیونکہ بنگالی مزاج کے لوگ عموماً منصف مزاج ہوتے ہیں اور سمجھ دار ہیں۔جب