خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 785 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 785

خطبات طاہر جلد 13 785 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 /اکتوبر 1994ء غلطیاں ہو جاتی ہیں۔تو اتنا حیرت انگیز نظام ہے اسلام کا کہ ہر بات میں گہری حکمت اور آپس کے ربط پائے جاتے ہیں۔پس اس پہلو سے میں ان کو لکھتا ہوں کہ شوق سے آپ مشق ستم فرما ئیں مجھے کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوتا ہے میں ممنون ہوں میری غلطیاں نکالا کریں، مجھے کوئی تکبر نہیں ہے کسی قسم کا۔میں اگلے خطبے میں کہہ دوں گا ہاں جی یہ غلطی ہوگئی معاف کرنا لوگ درست کر لیں لیکن یہ ضروری ہے میرے لئے کہ غلطیاں رہ نہ جائیں کیونکہ آئندہ زمانوں میں ان خطبوں سے فائدے اٹھائے جائیں گے اگر غلطی رہ گئی اور درستی نہ کی گئی تو بعض لوگ غلط راستوں پر چل پڑیں گے۔تو اردو میں بھی ہوں گی ضرور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں اردو دان ہوں لیکن کوشش کر رہا ہوں کہ جس حد تک ہو سکے صحت کے ساتھ آپ کو زبان سکھاؤں اور ایک نیا مقصد جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پہ ظاہر ہوا کہ تمام دنیا میں اس کثرت سے اور اس تیزی سے احمدیت پھیل رہی ہے کہ اب ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ ہر زبان کے ماہرین اتنے پیدا کریں اور اس کثرت سے پیدا کریں کہ وہ ساتھ ساتھ اردو بھی سیکھ چکے ہوں اور انگریزی بھی یا عربی بھی اور بہترین ترجمے کر کے دنیا کو پیغام دے سکیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑی دنیا احمدیت میں ہم داخل کر رہے ہیں جو اپنے علم کے لحاظ سے اندھیروں میں رہے گی اور ان کو روشنی پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کر سکتے۔تو اگر براہ راست ساری دنیا اردو سیکھ لے اور ٹیلی ویژن کے ذریعے اب یہ ممکن ہو گیا ہے تو بیک وقت افریقہ میں اور یورپ کے ممالک میں وہ سارے جن سے ترجمے کا احتیاج رہتا تھا باتیں کرتے ہوئے اور نہ ان کو لطف آتا تھا نہ مجھے لطف آتا تھا اب ایسا موقع پیدا ہو جائے گا کہ سال دو سال کے اندر اندر خدا کے فضل سے جب میں یہاں آؤں گا تو برا در مظفر سے امریکن انگریزی نہیں بولوں گا بلکہ اردو میں بات کروں گا اور سارے بھائی میرے جتنے یہاں موجود ہیں وہ بے تکلف مجھ سے باتیں کریں گے اب تو ہمارے حبیب شفیق صاحب کو صرف ایک اردو آتی ہے وہ سمجھتے ہیں اردو ہے حالانکہ وہ پنجابی ہے جب میں ملتا ہوں کہتے ہیں ” کیہہ حال اے تو جو میں اردو سکھاؤں گا وہ ایسی اردو نہیں ہو گی جو کھلم کھلا پنجابی ہولیکن ” کی حال تک بات نہیں رہے گی ، آگے بات بڑھے گی کیونکہ ہم جو زبان سکھا رہے ہیں اللہ کے فضل سے وہ روز مرہ کی زندگی کے مختلف مواقع ، اٹھنا بیٹھنا، پھر دین کی باتیں اور رفتہ رفتہ اس کے مضمون کو بڑھا کر دینی مسائل کی گفتگو یہ ساری ماضی، حال، مستقبل پر عبور۔