خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد 13 746 خطبه جمعه فرمودہ 30 ستمبر 1994ء اندار کا یقین کہ لازماً خدا نے جو خبریں انذار یعنی ڈرانے کے طور پر خدا کے رستے سے ہٹنے والوں کے لئے دی ہیں وہ بچی ہیں ، ضرور پوری ہوں گی اور تبشیر اور بشارت کا یقین کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان پاک بندوں پر ضرور رحمتیں نازل فرمائے گا جو ان قوموں کو بچانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔یہ دو باتیں ہیں جو آپ میں قوت عمل پیدا کریں گی اور اسلوب تبلیغ کا خدا نے خود ہی بتا دیا ہے۔ہمدردی اور پیار سے بات کرو، دلیلیں تو بعد کی باتیں ہیں۔انسان کی نظر سچے دل کے اوپر پڑا کرتی ہے اور میں نے بارہا اسلام قبول کرنے والوں یا غیر احمد یوں میں سے احمدی ہونے والوں سے سوال کئے ہیں اور اکثر میں ان سے پوچھتا ہوں جب ملتے ہیں، کہ تمہیں کس بات نے متاثر کیا۔یہ جواب اکثر کا ہے کہ ہمارا فلاں دوست تھا وہ دل کا سچا تھا، اس کے اندر گہرے اخلاق تھے، اس کے اندر سچا پیار تھا اور قربانی کا جذبہ تھا اور اس نے ہمیں متاثر کیا اور پیغام بعد میں آیا ہے۔تو اصل حقیقت یہ ہے کہ پیغام خواہ کیسا ہی سچا ہو، کتنی ہی اس میں دل جیتنے اور عقلوں کو قائل کرنے کا مادہ موجود ہوتب تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک کہ پیغام پیش کرنے والا اپنے حسن کی ٹرے میں، مجمع میں سجا کر اسے پیش نہ کرے۔دیکھو اچھی چیزیں بھی اگر برے طریق پر پیش کی جائیں تو انسان اس کو رد کر دیتا ہے۔کسی گندے اور غلیظ برتنوں میں آپ اچھے سے اچھا کھانا پیش کریں لوگ اس کو حرص کی نظر سے تو کیا دیکھنا نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ٹھوکر مار کر اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔کبھی کسی غلیظ گندے برتن میں آپ کو خدانخواستہ اگر کھانا پیش کیا جائے تو سوچیں آپ کے دل کی کیا کیفیت ہو گی۔مگر بعض لوگ سلیقے سے بات کرتے ہیں ،سلیقے سے چیز پیش کرتے ہیں وہ معمولی غریبا نہ کھانا جسے دال روٹی کہا جاتا ہے وہ بھی پیار، محبت کے ساتھ ، سلیقے کے ساتھ طشتری میں سجا کر آپ کے سامنے رکھیں تو آپ اسی محبت اور پیار سے کھائیں گے خواہ آپ کو بھوک نہ بھی ہو تو دونو الے لے لیں گے۔تو تبلیغ کا ڈھنگ یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دل پیدا کریں اور جتنے احمدی کامیاب مبلغ ہیں سب اسی دل کے فیض سے تبلیغ کرتے ہیں۔سچا پیار بنی نوع انسان سے ہوان کے غم کو اپنا غم بنائیں ان کی فکروں کو اپنی فکر بنالیں، ان کے بدانجام پر نظر رکھتے ہوئے ان کو بچانے کی کوشش کریں، اس کے سوا اور کوئی تبلیغ کا رستہ نہیں اور وہ خوشیاں جن کے وعدے آپ کو دیئے گئے ہیں سوچیں کہ ان لوگوں کے جو آپ کے ماحول میں بستے ہیں ان کے ہلاک ہونے کے نتیجے میں آپ