خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 473
خطبات طاہر جلد 13 473 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء دانشور، دانشور ہونے کے باوجود ان کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ، ان کی اہمیت کو نہیں جان سکتے۔ان کو یہ بھی نہیں پتا کہ انصاف کے قیام کے بغیر دنیا میں کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا۔انصاف کی بات کرتے ہیں تو یہ نہیں جانتے کہ وہ انصاف جو دو غلا معیار رکھتا ہوا اپنوں کے لئے اور ہو، غیروں کے لئے اور ہو، وہ انصاف دنیا میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتا ، کوئی امن دنیا کو نہیں بخش سکتا۔اب یہ سادہ باتیں ہیں بظاہر ہر انسان کو مجھنی چاہئیں لیکن علم ہونے کے باوجود سمجھ نہیں آتی۔یہ فرق ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کیسے سمجھ آتی ہیں اس کے لئے حضرت محمد مصطفی امیلا سا عظیم کردار ہونا ضروری ہے۔ایسا کردار جو باتیں کہے وہ خود اس کا ایسا پاک اور عظیم نمونہ بن جائے کہ ہر بات دل تک اترے اور رگ وریشہ میں سرایت کر جائے۔یہ وہ کام تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے کر کے دکھایا اور یہی وہ پاک نمونے ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوبارہ جاری فرمایا اور آپ کے صحابہ کی صورت میں ہم نے ان پاک نمونوں کو قادیان کی گلیوں میں اور اس سے باہر، ربوہ میں اور اس سے باہر، ہر جگہ زندہ نمونوں کے طور پر چلتے پھرتے دیکھا۔یہ پاک نمونے ہیں جو اب اس نسل میں منتقل ہونے لا زم ہیں۔اگر اس نسل میں یہ نمونے منتقل نہ ہوئے تو دنیا کے امن کی کوئی ضمانت نہیں۔آنے والے جو آئیں گے وہ پھر آپ سے اعلیٰ کردار نہیں سیکھیں گے بلکہ بد اخلاقیاں سیکھیں گے اور ایسے لوگ جو اعلیٰ اخلاق پر فائز نہیں ہوتے وہ دو طرح سے خطرات کے حامل ہوتے ہیں۔ایک آنے والوں کے لئے وہ خطرہ بن جاتے ہیں دوسرے آنے والے ان کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔یعنی جو بد اخلاق لوگ ہیں وہ آنے والوں کی بد خلقیاں سیکھتے ہیں اور ان کی بدیوں کی پیروی کرنے سے لذت پاتے ہیں۔پس دونوں صورتوں میں لازم ہے کہ آپ سنت محمد مصطفی ﷺ کو ان آسان را ہوں سے پائیں جن آسان راہوں سے میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔آنحضور کے اخلاق پر غور کریں، کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسے اختیار کرو۔آپ سنتے ہیں اور دل اچھلتا ہے اور اسے اپنانے کے لئے طبیعت بے قرار ہوتی ہے اور فطرت سے جس طرح ماں کے دودھ کے لئے بچہ اچھلتا ہے اور اس کے نتیجے میں ماؤں کا دودھ چھاتیوں میں آجاتا ہے اس طرح آنحضرت ﷺ سے فیض پانے کے لئے آپ کی فطرت پکارنے لگتی ہے اور آنحضور کے فیض کا دودھ آپ کی فطرت میں جاری ہونے لگتا ہے۔یہ وہ