خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 465 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 465

خطبات طاہر جلد 13 465 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جون 1994ء ہے وہ دل لپکتے ہوئے لبیک کہتے ہوئے اس طرف دوڑیں۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس طرف وہ ان دلوں کو بلا رہا ہے یعنی تم سب کے دلوں کو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا رستہ ہے وہ خدا کا رستہ ہے اور کسی کا نہیں اس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں۔اسی کا نام صراط مستقیم ہے، اسی سے وحدت ملتی عطا ہوتی ہے۔اسی سے تفرقے پھر وحدت کی لڑیوں میں پروئے جاتے ہیں۔پس آپ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہیں اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دور کی باتیں ہیں تو ان نصیحتوں پر تو عمل کریں یا بتا ئیں کہ ان میں کیا نقص ہے۔ان سے بہتر بات تو پیش کر کے دکھا ئیں۔آپ تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہی ہیں جو حکم عدل بن کر آئے تھے اور تمہارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے والے تھے اب آپ کے فیصلے میں نے تمہیں سنا دئے ہیں۔ان فیصلوں سے بہتر فیصلے کر کے تو دکھاؤ۔بتاؤ تو سہی کہ اس سے زیادہ اور کون سی پاک اور مؤثر راہ ہوسکتی ہے جو مسلمانوں کے بٹے ہوئے دلوں کو پھر ایک ہاتھ پر ا کٹھے کر سکتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانا اب تمہارے اختیار کی یا ہاں یا نہ کی بات نہیں رہی۔امر واقعہ یہ ہے کہ سچا امام جن رستوں کی طرف بلاتا ہے ان رستوں سے انکار خودکشی کے مترادف ہو جایا کرتا ہے۔تو انکار کرو گے بھی تو باتیں وہی ماننی پڑیں گی جو حضرت مسیح موعود کہتے ہیں۔ان باتوں سے بہتر باتیں تمہارے فرشتے بھی سوچ نہیں سکتے کیونکہ یہ خدا صلى الله کا کلام ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ آپ کی برکتوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دل پر نازل ہوا۔جو وحدت کے رستے آپ نے بتائے ہیں ان کے سوا اور کوئی وحدت کا رستہ نہیں۔پس اس رستے سے آؤیا اس رستے سے آؤ، طوعاً آؤیا کر کھا آؤ۔تم نے حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کی اگر بیعت نہیں کرنی تو باتوں کو تو لازما ماننا پڑے گا اور اگر نہیں مانو گے تو اسی طرح بے رہو گے۔اسی طرح ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کی تعلیم دیتے رہو گے۔نفرتوں کی منادی کرتے رہو گے اور ہر سال بجائے اس کے کہ محرم امت محمدیہ کو ایک کرنے کا عظیم الشان نظارہ دکھائے ہر سال یہ محرم آپ لوگوں کو اور زیادہ متفرق کرتا چلا جائے گا، آپ کے دلوں کو اور زیادہ پھاڑتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو عقل دے، ہوش دے اور وہ سچی باتیں جو ایک صاف اور پاک دل کو صاف دکھائی دیتی ہیں۔کسی دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔سچ تو خود اس طرح بولتا ہے کہ مومن کی پیشانی