خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 426
426 خطبہ جمعہ فرموده 3 جون 1994ء خطبات طاہر جلد 13 ایندھن بنو گے۔پس اپنے تعلقات کو حضرت محمد مصطفی علیہ سے استوار کریں اور وہ یہی ایک ذریعہ ہے کہ آپ کے اخلاق کا جوڑنے والا مصالحہ حاصل کریں وہ ایک طرف آپ کو محمد رسول اللہ سے جوڑے گا اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کے ساتھ جوڑے گا اور اس طرح وہ جمیعت نمودار ہوگی جس کی متعلق قرآن کریم فرماتا ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا شخص اللہ تعالیٰ ہمیں وہ جمیعت عطا فرمائے اس جمیعت کے بغیر ہم دنیا میں کوئی انقلاب بر پا نہیں کر سکتے۔الحمد للہ کہ وہ جمیعت نصیب ہو رہی ہے، الحمد للہ کہ میں محبت کے عجیب عجیب حیرت انگیز دل لبھانے والے اظہار دیکھ کر آیا ہوں۔جرمنی کی جماعت کو خدا نے یہ توفیق بخشی ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ نشو ونما پانے لگی ہے۔ہر قوم میں پھیل رہی ہے۔ہر قوم سے تعلق جوڑ رہی ہے اور ایسے ایسے نئے آنے والے عشاق دیکھے ہیں کہ ان کی نظروں کو دیکھ کر میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا۔وہی لوگ جو ایک دو سال پہلے ملے تھے ان کی آنکھوں میں اجنبیت تھی، کوئی تعلق کے آثار نہیں تھے اب وہ آنکھیں عشق سے معمور تھیں۔ہر لحظہ قربانی کے لئے تیارتھیں یہاں تک کہ ایک موقع پر جب میں نے ایک معاملے میں نصیحت کی اور اس کا لوگوں پر اثر ہوا تو ایک سکھایا پڑھا یا امام آگے آیا۔اس نے وہی باتیں کیں جو ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں مولوی ، احمد یوں سے دور کرنے کے لئے دوسروں کو سکھاتے ہیں۔صاف دکھائی دے رہا تھا کہ سکھایا پڑھایا ہے۔جب وہ یہ باتیں بیان کر رہا تھا اور ایک مکیدو نیا کا احمدی جو تھوڑا عرصہ ہوا احمدی ہوا تھا لیکن اتنی محبت اور ایسا جوش اس کے دل میں ہے کہ بار بار اچھل کے اٹھتا تھا میری طرف دیکھتا تھا کہ مجھے اجازت دیں میں اس کا جواب دوں گا۔مگر میں ہر دفعہ اس کو اشارے سے روکتا رہا اور پھر تحمل سے میں نے بات بیان کی یہ ویسے ہی عشاق ہیں جن کا ذکر آپ پرانے زمانوں میں انبیاء کے حوالوں سے پڑھتے ہیں اور انبیاء ہی کی برکت سے وجود میں آئے ہیں۔اگر مسیح موعود دوبارہ دنیا میں تشریف نہ لاتے تو وہ اولین کے نظارے جو تاریخ کی زینت تھے وہ آج اس زمانے کی زینت نہیں بن سکتے تھے۔پس ان خوبیوں کی حفاظت کریں یہی اخلاق حسنہ ہیں جو آپ کو زندگی بخشیں گے یہی اخلاق حسنہ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا کر دیں گے۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔آمین۔