خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 372

خطبات طاہر جلد 13 372 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 رمئی 1994ء انسان ایثار اس وقت کرتا ہے، جب وہ کسی محبت کی وجہ سے کر رہا ہو۔ورنہ ایثار کے کوئی معنی نہیں۔ایثار کا تصور ہی جھوٹا ہے بغیر محبت کے۔ماں بچے کے لئے ایثار کرتی ہے اس لئے کہ محبت ہے۔محبوب کی خاطر عاشق ایثار کرتا ہے اس لئے کہ محبت ہے۔تو ایثار کا لفظ ایسا ہے جس کا اٹوٹ رشتہ محبت کے ساتھ ہے، تو اللہ تعالیٰ نے عَلى حُبه فرما کر ایک حیرت انگیز مضمون بیان فرمایا اس قدر غریبانہ حالت ہے تمہاری کہ کھانے سے محبت ہو گئی ہے اور اس کے باوجود تم خرچ کرتے ہو تو کیسے کر سکتے ہو عَلى حُبّه اللہ کی محبت کے نتیجہ میں۔ایک محبت دوسری محبت پر غلبہ پالیتی ہے اور خدا کی محبت کی خاطر تم ایک مادی چیز کی محبت کو نظر انداز کر کے دھتکار دیتے ہو اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب وہ لوگ تمہارا شکر یہ ادا کرتے ہیں، تو تم اچانک اس سے تکلیف محسوس کرتے ہو، تم سمجھتے ہو کہ یہ تمہارا شکریہ ادا کر کے تمہاری نیکی کو ضائع کر رہے ہیں۔تم سمجھتے ہو کہ شکریوں کے ہم مستحق بھی تو نہیں ہیں۔ہم نے جس منہ کی خاطر یہ نیکی کی تھی اس سے اپنی جزاء پالی۔اس محبت کے بدلے میں ہمیں محبت نصیب ہو گئی۔اب یہ کیسا شکریہ ادا کر رہا ہے، یہ تو بے محل ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ الله ان کی آواز یہ ہوتی ہے کہ ہم تو اللہ کے چہرے کی خاطر، اللہ کی رضا کی خاطر، اس کا پیار لینے کے لئے تم پر خرچ کر رہے ہیں۔لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا تمہارا ہمارا شکریہ ادا کرنا اور اس کے بدلے جزا دینے کی سوچنا بالکل بے تعلق بات ہے۔جس کی خاطر ہم نے کیا اس سے ہم نے جزا پالی۔یہ مضمون بہت ہی گہرا ہے کیونکہ اس سے آگے پھر ایک اور رستہ کھلتا ہے وہ یہ کہ جب بھی بنی نوع انسان کی آپ خدمت کریں اور باوجود اس کے کہ خود ضرورت مند ہیں پھر بھی خدمت کریں اور اللہ کی خاطر، اس کی محبت میں خدمت کریں اور اس کو یہ بتا دیں کہ ہم تمہارے محسن نہیں ، اللہ ہمارا محسن بھی ہے اور تمہارا احسن بھی ہے۔لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَ لَا شُكُورًا میں یہ دوسرا پیغام بھی ہے کہ جس کی خاطر ہم نے کیا تھا اس کا تمہیں احسان پہنچ رہا ہے ہمارا تو نہیں پہنچ رہا۔ان کا تعلق خدا سے قائم کروانے کے لئے ایک بہت ہی عظیم مضمون ہے۔جس کو یہ سمجھ آ جائے کہ یہ احسان کرنے والا خود کر ہی نہیں رہا یہ تو اس کی خاطر کر رہا ہے جس نے اس کو کہا ہے، اس کی توجہ اس طرف پھر جائے گی۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کوئی نو کر فقیر کی جھولی میں کچھ ڈال دے اور وہ اس کی بلائیں لے، اس کو