خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد 13 270 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء گے تو اللہ قیامت کے دن تمہاری پردہ پوشی فرمائے گا وہاں اس میں یہ تنبیہ بھی شامل ہے کہ اگر پردہ دری کرو گے تو قیامت کے دن تمہاری پردہ پوشی کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور جس کی قیامت کے دن پردہ دری ہوگی اس کی دنیا میں بھی پردہ دری ہوتی ہے۔پس اس بہت ہی پاک اور گہری نصیحت کو اپنے معاشرے کی اصلاح کے لئے غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اختیار کریں اگر آپ ان چند نصیحتوں کو اختیار کریں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور ایسی بہت سی ہیں جن کا بعد میں انشاء اللہ اس خطبات کے سلسلے میں ذکر آتا رہے گا تو آپ اپنے معاشرے کو جنت نشاں معاشرہ بنا سکتے ہیں۔اپنی طبیعت کے تجسسات پر نفرت کی نگاہ ڈالیں۔ان کو چھوڑ دیں، یہ کمینی لذتیں ہیں، ان سے کوئی فائدہ نہیں، ان سے گھروں کے امن اٹھ جاتے ہیں، ایک بھائی کو اپنے بھائی پر اعتماد باقی نہیں رہتا، ایک بہو کو اپنے خسر یا اپنی ساس پر اعتماد نہیں رہتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سارے میری جستجو میں ہیں، اس طرف لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح میری کوئی مخفی بات کسی کے علم میں آجائے۔چنانچہ یہ ہوتا ہے اور اس حد تک ہوتا ہے کہ بعد میں جب مقدمات چلتے ہیں تو بعض دفعہ مجھے لکھا جاتا ہے کہ ہم نے خود اس بہو کا خط پکڑا ہوا ہے اس میں یہ بات لکھی ہوئی تھی اب بتائیں ہمارا رویہ درست ہے کہ نہیں۔ان کو میں کہتا ہوں تمہارا رو یہ تم جو کچھ کہو ایک شیطانی رویہ تھا۔تمہیں کوئی حق نہیں تھا کہ اپنی بہو کے ایسے خط کو پڑھو اور کوئی حق نہیں ہے کہ اب اسے عدالتوں میں یا میرے سامنے پیش کرو۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نصیحتوں کو غیر معمولی اہمیت دیں آپ کی چھوٹی چھوٹی نصیحتوں میں بھی قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کی امن کی ضمانتیں دی گئی ہیں اس ضمانت کے نیچے آجائیں، اسی کا سایہ ہے جو امن بخشے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: ”جو دوست باہر سے آئے ہوئے ہیں ان کو ان کے ساتھی یہ سمجھا دیں کہ ہم نمازیں جمع کریں گے اور عصر کی نماز دو گا نہ ہوگی۔جو مسافر ہیں جو آج کے اجلاس میں شرکت کے لئے دوسرے شہروں سے آئے ہیں وہ میرے ساتھ ہی دوگانہ رکعتوں کے بعد سلام پھیریں گے جو مقامی دوست ہیں وہ بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو کر اپنی روز مرہ کی عصر کی چار رکعتیں پوری کریں گے۔“