خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد 13 227 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / مارچ 1994ء اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔“ میرے ذہن میں یہ عبارت اس وقت نہیں تھی جب میں نے یہ بات کی ہے کیونکہ یہ ابھی پڑھنے ہی لگا تھا۔یہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک طبعی نتیجہ ہے جس طرح اس پر غور کرتے ہوئے میرے دل سے خود بخود یہ مضمون پھوٹا ہے اس کے سوا کوئی مضمون بنتا ہی نہیں ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے معا بعد فرماتے ہیں جو شخص بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں ہے۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے۔کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔اور مردوں سے بڑھ کر زیادہ تر عورتوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پھر جہاں بھی ہوں گے جس حال میں ہوں خوشیوں کا موقع ہو یا اور کسی کام میں مصروفیت۔اگر گھر میں بیمار بچہ چھوڑا ہوا ہے تو بیمار بچہ ہی دماغ پر غالب رہے گا۔۔۔۔۔اسی طرح پر لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں۔وہ کسی حال میں بھی خدا تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ صوفی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے رونے میں اتنا ثواب نہیں جتنا عارف کے ہنے میں ہے۔۔۔۔۔بہت پیاری بات ہے۔فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کے رونے میں اتنا ثواب نہیں جتنا عارف کے ہننے میں ہے کیونکہ وہ ہنستا بھی ذکر الہی کے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ بھی اللہ کا پیار اور اس کی محبت وابستہ ہوتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عبد القادر جیلانی سے کسی نے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے بزرگ کہلاتے ہیں اور ہیں بھی۔آپ کی دعائیں قبول ہوتی اور بڑے بڑے اعجاز آپ سے ظاہر ہوتے ہیں لیکن آپ کو کپڑوں کا اتنا کیا شوق ہے؟ اتنے خوب صورت کپڑے پہنتے ہیں اتنا اچھا لباس رکھتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر یہ پہن اور یہ پہن۔میں وہ نہیں پہنتا۔یہ ہے ضرورت کا دعا بنا اور پھر دعا کا قبول ہو جانا۔ہر ایک کو کیوں نہیں خدا ایسے کہتا۔حضرت عبد القادر سے برتر بزرگ انبیاء تھے ان کے متعلق یہ بات نہیں ملتی۔معلوم ہوتا ہے