خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 1000
خطبات طاہر جلد 13 1000 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء MTA جب اتری ہے تو تب سمجھ آئی ہے کہ ساری دنیا میں اسی سال 1994 ء ہی میں یہ آسمان کی گواہیاں اتر رہی ہیں جیسے چاند سورج کی گواہی آسمان سے اتری تھی اور دوبارہ اس گواہی کو لے کر پھر خدا کے فضل اترنے شروع ہوئے۔پس یہ خدا کی کائنات کے عجیب اسرار ہیں۔ان کو لطیف نگاہوں سے دیکھیں تو انسان اور بھی زیادہ لطف اندوز ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ مولویوں نے پتا کیا کہا تھا ؟ انہوں نے کہا تھا 1994ء کا سال احمدیوں کے لئے موت کا سال ہے۔چھٹی۔کہتے ہیں مرزا طاہر کو عادت پڑی ہوئی ہے پاگلوں والی باتیں کرتا رہتا ہے، بڑے دعوے کر رہا ہے کہ ہم نے یوں کیا اور اس سال ہم یوں کریں گے۔ہم بتاتے ہیں کہ یہ سال کیا ہونا ہے۔نائب ناظم صاحب مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کہتے ہیں قادیانیو! آئین کو تسلیم کرلو پاسداری کرو قانون کی۔(یعنی اللہ کا قانون دفع کرو۔چھوڑ و پرے، ہمارا قانون مانو اور خدا کے قانون کے باغی ہو جاؤ۔یہ مضمون ہے ) ورنہ 1974 ء میں مرزائیت کو ایک ضرب لگی پھر 84ء میں امتناع قادیانیت کے ذریعے قادیانی زخمی ہوا اب 94 ء ہے اور یہ قادیانیت کے خاتمہ کا سال ہوگا۔94 ء ایک دن باقی رہ گیا ہے اور یہ دن بھی خوش خبریاں لے کر آئے گا۔کوئی دن ایسا نہیں گزرا اس سال کا جونئی سے نئی خوش خبریاں لے کر نہ آیا ہو اور ان منحوسوں کی ہر بات جھوٹی نکلی ایک ایک لفظ جھوٹا ہوا اور یہ بھی انہوں نے ایک شیوہ بنالیا ہے۔ایک دفعہ ایک مولوی اٹھ کے کہتا ہے کہ اگلے سال مرزا طاہر مر جائے گا اور دوسرے سال دوسرا مولوی کہتا ہے کہ میں پیشگوئی کر رہا ہوں، تیسرے سال تیسرا مولوی۔سکیم یہ بنائی گئی ہے کہ کسی سال تو اس نے مرنا ہی ہے تو جس سال مرا اس سال کا مولوی اور اس کے سارے ساتھی بچے ہو گئے۔وہ بیسیوں جھوٹے جو بد بخت پیچھے رہ جائیں گے ان کا کیا بناؤ گے۔یہی پیشہ انہوں نے مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی اختیار کیا ہوا تھا اور حیرت انگیز طریق پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کے مکر وفریب کے جال سے نکال لیا۔ایسا عجیب واقعہ ہے عبدالحکیم کی پیشگوئی سے متعلق کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے مولوی تو اس کو پیش کرتے ہیں کہ دیکھو مرزا صاحب جھوٹے نکلے اس نے کہا تھا عبدالحکیم نے کہ یہ 1908ء کا جو سال ہے اس میں مرجائے گا اور یہ واقعہ ہوگا اور دیکھ لو 1908ء میں مر گیا اب اور کیا چاہتے ہو۔حالانکہ اس سے پہلے سالوں کا دیکھو ہر سال یہی کہا کرتے تھے مولوی کبھی عبدالحکیم نام کا کبھی کسی