خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 901
خطبات طاہر جلد ۱۲ 901 خطبہ جمعہ ۱۹/ نومبر ۱۹۹۳ء ہیں اور ان معاملوں میں میں مجرم بن رہا ہوں اور دوسری طرف علم محبت پیدا کرتا ہے۔جب اللہ کے حوالے سے آپ زندگی گزارتے ہیں۔تو آپ کے دل میں بے پناہ محبت اس وجود کی پیدا ہوتی ہے جس نے آپ کی خاطر یہ سب کچھ کیا ہے۔تو جب واسطی نے یہ کہا کہ غفلت کے میدان سے مشاہدے کے میدان میں نکلو تو بالکل درست کہا ہے۔اور یہ ایک محض سہانا ایسا کلام نہیں جس طرح صوفی اپنے دکھاوے کے لئے بنا لیتے ہیں گھڑ لیتے ہیں ایک صاحب تجر بہ صاحب مشاہدہ کا کلام ہے۔ذوالنون مصری کہتے ہیں :۔مَنْ ذَكَرَ اللهَ تَعَالَى ذِكْرًا عَلَى الْحَقِيقَةِ نَسِيَ فِي جَنْبِ ذِكْرِهِ كُلَّ شَيْءٍ وَ حَفِظَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ كُلَّ شَيْءٍ وَ كَانَ لَهُ حِفْظًا عَنْ كُلَّ شَيْءٍ“ اس کا ترجمہ اب میں پڑھ دیتا ہوں لیکن اس مضمون کو انشاء اللہ آئندہ خطبے میں بیان کروں گا۔وقت نہیں رہا۔ذوالنون مصری کہتے ہیں کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا فی الحقیقت ذکر کیا۔وہ ذکر ہر دوسری یاد کو مٹا دیتا، یعنی لا الہ کا مضمون اس کو تب سمجھ آتا ہے جب الا اللہ کی حقیقت پر غور کرے اور جب اللہ کی حقیقت پر فی الواقعہ غور کرتا ہے تو تب وہ محسوس کرتا ہے کہ ارد گرد کوئی بھی باقی نہیں رہا۔سب مٹ گئے وہ اکیلا وہی اور خدارہ گیا ہے اور اللہ اس کے لئے ہر چیز پر اس کا محافظ بن جاتا ہے۔جب غیر اللہ کے سہارے ٹوٹ گئے، کوئی رہا ہی نہیں میدان میں جس کو پکارے جس کو آواز دے تو پھر اس کی حفاظت کا سارا ذمہ خدا تعالیٰ کے اوپر ہو جاتا ہے۔اس مضمون پر انشاء اللہ آئندہ میں ایک حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیث پیش کر کے پھر باقی مضمون کو وہاں سے پھر بیان کریں گے۔