خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 887 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 887

خطبات طاہر جلد ۱۲ 887 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء کرو، وہ تو ہمیشہ ممنون رہیں کہ اس سے زیادہ احسان کرنے والا خاوند دنیا میں کسی کو عطا نہیں ہوسکتا۔پس وہ وجود جس نے عورتوں کے لئے ناصرف تعلیم دی بلکہ اس کا دل مجسم عورت کے حقوق کے لئے ایک تعلیم تھا۔الہبی تعلیم نے اس کے حسن کو اور ابھارا ہے لیکن کردار کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا کردار عورت کے لئے پہلے بھی ویسا ہی نمونہ تھا۔پس اس پہلو پر غور کرتے ہوئے مردوں کو چاہئے ، جیسا کہ خدام الاحمدیہ گوئٹے مالا کو بہت اچھا خیال آیا ہے کہ عورتوں کے حقوق کی باتیں اپنی مجالس میں کیا کریں۔اپنے اجتماعات میں، اپنے جلسوں میں یہ نہ ہو کہ عورتوں کی طرف سے مطالبے ہوں کہ ہمارے حقوق غصب کئے جا رہے ہوں اور پھر آپ کو اس کے اوپر کچھ کہنا پڑے اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ مردوں کے حقوق کی باتیں اپنی مجالس میں کیا کریں اور اپنے اجتماعات میں اور جلسوں میں عورتوں کو سکھائیں کہ انہوں نے کیا حقوق ادا کرنے ہیں اور اس طرح ایک بہترین معاشرہ پیدا ہو جائے گا۔حقوق کی طلب ایک نفسیاتی رجحان پیدا کر دیتی ہے اس سے جھگڑے بھی پیدا ہوتے ہیں اس سے سرکشیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بعض دفعہ انسان اپنے جائز حقوق سے زیادہ مانگنے لگ جاتا ہے۔تا کہ گفت وشنید میں کچھ تو ہاتھ آئے اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے مطالبوں میں لیکن جہاں حسن و احسان کا اظہار کرتے ہوئے ادائیگی کی باتیں کی جائیں۔مالک خود یہ کہے کہ میں تمہیں یہ بھی دینا چاہتا ہوں، یہ بھی دینا چاہتا ہوں، یہ بھی دینا چاہتا ہوں۔اس کے نتیجے میں کوئی جھوٹ شامل نہیں ہوسکتا۔وہ اتنا ہی دینے کی باتیں کرے گا جتنا دل آمادہ ہے اور مد مقابل پھر یہ نہیں سمجھتا کہ میرا حق کم دیا گیا ہے۔وہ احسان کے نیچے دبتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں اتنا نہ کریں مجھے اتنا ہی کافی ہے۔اور یہ روز مرہ کی زندگی میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔وہ مالک یا کام لینے والے جو محسن ہوتے ہیں ان کے تابع جن لوگوں کو کیا گیا ہے وہ ہمیشہ کوشش کر کے ان کے حق سے زیادہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو ان کو دیا جاتا ہے وہ سمجھتے ہیں یہ بہت زیادہ ہے یہ احسان ہے۔تو یہ بہترین رشتہ جو ایک نظام میں ایسا حسن پیدا کر سکتا ہے جو دنیا وی نظام میں متصور ہی نہیں ہو سکتا ، سوچا ہی نہیں جا سکتا۔یہ اسلام کے اندر ممکن ہے کیونکہ اسلامی تعلیم اس کی گنجائش رکھتی ہے۔عدل کے لحاظ سے بھی پوری ہے اور احسان کے لحاظ سے بھی پوری ہے اور ایتاء ذی القربی کے لحاظ سے بھی پوری اور کامل