خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 807

خطبات طاہر جلد ۱۲ 807 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء استعمال نہیں کرنا چاہتا ) دنیا کے دھندوں میں زیادہ مشغول ہو گئے دین پر سیاست کو ترجیح دینے لگے۔خاندانی رقابتوں اور شراکتوں میں مبتلا ہو گئے اور دنیا کی ذلیل ذلیل نمبر داریوں میں اپنی عزتیں شمار کرنے لگے اور چوہدراہٹ کا وہ بگڑا ہوا تصور جس نے ایک لمبا عرصہ تک پنجاب پر قبضہ کئے رکھا تھا وہ ان خاندانوں کے سروں میں سما گیا اور اس کے بعد پھر وہ سارا وقار کھو بیٹھے۔سیالکوٹ کی جماعتیں صف اول میں شمار ہونے کی بجائے سب سے پیچھے جا پڑیں اور اب وہ ماضی کی یادگاریں ہی رہ گئی ہیں جیسے کھنڈرات رہ جایا کرتے ہیں۔ان میں کم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان پرانی اقدار کو زندہ رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔اب کچھ عرصہ سے یہ احساس بیدار ہورہا ہے انصار اللہ سے میں خصوصیت سے مخاطب ہوتا ہوں کہ آپ کے اس دنیا میں تھوڑے دن رہ گئے ہیں اگر چہ خدام انصار سے پہلے بھی مر سکتے ہیں، اطفال بھی خدام سے پہلے مر جاتے ہیں لیکن بالعموم جب ہم ایک گروہ کی بات کرتے ہیں تو انصار کے اس دنیا میں رہنے کے دن خدام اور اطفال کے مقابل پر تھوڑے ہیں۔ان تھوڑے دنوں میں خدمت کی جتنی توفیق ہے وہ حاصل کر لیں۔کھوئی ہوئی روحانی اقدار کو از سر نو حاصل کرنے کی جس حد تک کوشش ہے آپ اگر یہ کوشش کریں تو آپ کے نیک اثرات آپ کی نوجوان نسل پر بھی اور چھوٹی نسلوں پر بھی پڑیں گے اور میری ہمیشہ سے یہ دعا رہی ہے اور تمنا رہی ہے اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی کہ سیالکوٹ کو اللہ تعالیٰ وہ مرتبہ اور مقام عطا فرمائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ان کو عطا ہوا تھا۔پس ان کھوئی ہوئی اقدار کو از سر نو حاصل کریں اور پھر چمٹ جائیں۔حرز جان بنالیں اور نہ چھوڑیں جب تک کہ خدا کا بلا وانہ آجائے۔یعنی اس دنیا میں رہتے ہوئے جب تک زندہ ہیں ان اعلیٰ اور بزرگ اقدار سے چمٹے رہیں۔اسی میں ان کی زندگی ہے اسی میں ان کی دنیا ہے۔اسی میں دین ہے۔جب سے وہ و با پڑی ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔سیالکوٹ کی جماعتوں کا نہ دین رہا نہ دنیا رہی، آپس میں پھٹ گئے ، عزتیں اور وقارمٹ گئے۔اس ضلع میں وہ لوگ جو پہلے جماعت احمد یہ پر زبانیں دراز کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جن پر جماعت کا ایک عظیم رعب طاری تھا ان لوگوں نے اٹھ اٹھ کے ان لوگوں کو بھی گالیاں دیں۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھی زبانیں دراز کیں اور ہر طرح سے گندا چھالے تو یہ کوئی زندہ رہنے کے آثار نہیں ہیں۔زندہ رہنے کے اسلوب