خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 751
خطبات طاہر جلد ۱۲ 751 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر۱۹۹۳ء مضمون کو اور آگے بڑھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) کہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔الناس کو پیدا فرمایا ہے ایک طرف یہ بیان کہ خدا جیسا کوئی نہیں اور دوسری طرف یہ بیان کہ خدا نے اپنی فطرت پر سب کو پیدا کیا ہے۔اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض احادیث بھی آپ کے سامنے رکھوں گا لیکن میں بنیادی طور پر یہ تضاد دور کر دینا چاہتا ہوں جو بعض ذہنوں میں خلش پیدا کر سکتا ہے کہ یہاں کچھ کہا جا رہا ہے وہاں کچھ کہا جا رہا ہے۔ایک جگہ فرمایا کہ تم سب جوڑے جوڑے ہو پس اللہ کی طرف دوڑو، حالانکہ انسان تو اپنے جوڑے کی طرف دوڑا کرتا ہے تو کیا بات ہے جب اس کا جوڑا ہی کوئی نہیں تو اس کی طرف کوئی دوڑے ہی کیوں ؟ پھر دوسری جگہ فرمایا لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ اس جیسی تو کوئی مثل نہیں جب اس جیسی مثل ہی کوئی نہیں تو غیر مثل کا اس سے جوڑ کیا ہوا؟ اور پھر فرمایا کہ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا اللہ کی فطرت ہے اللہ کا مزاج ہے جس پر خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے۔فِطْرَتَ الله “ والی جو یہ آیت ہے اس نے کئی ذہنوں میں خلش پیدا کی اور کئی ترجمہ کرنے والوں نے اس کے مختلف ترجمے کئے تا کہ اس تصور سے نجات پالیں کہ گویا خدا نے کسی کو واقعہ اپنی فطرت پر پیدا کیا اور ترجموں کی یہ کوشش عربی کے دائرے کے اندر رہی ہے، اس کے مخالف نہیں رہی یعنی عربی اجازت دیتی ہے کہ ایسے ترجمے کئے جائیں کہ جن سے یہ ظاہر نہ ہو کہ خدا کی فطرت پر انسان کو پیدا فرمایا گیا ہے بلکہ یہ ترجمہ کیا جائے کہ وہ فطرت جو اللہ نے پیدا کی ہے یعنی دنیا میں جس کو نیچر کہتے ہیں جو خدا نے پیدا فرمائی ہے اس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔یہ ترجمہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے غلط نہیں ہے کیونکہ عربی الفاظ اس کے متحمل ہیں لیکن میں آپ کو نمایاں طور پر جو توجہ دلا نا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ترجمہ بھی درست بلکہ اوّل ہے کہ اللہ نے اپنی فطرت پر انسان کو پیدا فرمایا ہے لیکن اس کا مطلب کیا ہے۔پھر لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ والا مضمون کہاں چلا گیا؟ بات یہ ہے کہ ہر خالق کی اپنی تخلیق پر ایک چھاپ ہوتی ہے اور ناممکن ہے کہ خالق کی فطرت کی چھاپ اس کی تخلیق پر نہ ہو۔ایک مصور ہے وہ ایک بہت خوبصورت تصویر بناتا ہے یا بھڑی تصویر بناتا ہے جیسی بھی تصویر بناتا ہو اس مصور کا جو اندرونی مزاج ہے اس کے تصورکا منتہی کہ وہ کیا