خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد ۱۲ 726 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء جیسے جہلاء کی جماعت سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں اور عناد جو ہے وہ قابو میں نہیں آرہا لیکن خدا تعالیٰ کے پیار کی ہوائیں عوام کے دل بدل رہی ہیں، ان کے خیالات کی رو میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے جو ٹارگٹ پاکستان کو دئے گئے تھے ان کی میں تفصیل نہیں بتا تا کیونکہ مولوی اس سے بہت تکلیف اٹھا ئیں گے، بہت آزار پھیلے گا ہم تو پا کے دکھ آرام دو والوں میں سے ہیں اس لئے اس پر پردہ ہی رہنے دیا جائے تو اچھا ہے ورنہ بہت عذاب میں مبتلا ہوں گے ان کے لئے عَذَابٌ أَلِيمٌ (البقرہ:۱۱) بن جائے گا کہ ان حالات میں جبکہ حکومت نے اور مولویوں نے مل کر ساری کوششیں کرلیں کہ لوگ احمدیت کو چھوڑ کر مرتد ہو جائیں لیکن خدا کے فضل سے جوق در جوق لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔پس خدا کی چلائی ہوئی ہوائیں ہیں ان کو روک کوئی نہیں سکتا۔زور لگا کر دیکھ لیا اور لگا کر دیکھ لیں ان کی ہر کوشش ناکام اور نامراد ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہوائیں چل رہی ہیں یہ جھکڑ بن رہی ہیں یہ بڑے بڑے تو اناؤں کو اکھیڑ پھینکیں گی ان کے قدم اکھیر دیں گی۔یہ تو ایسی ہوائیں ہیں جو اگر شہروں کے خلاف چلیں تو شہروں کو ملیا میٹ کر دیتی ہیں۔کسی کا اختیار کیا ہے کسی کی طاقت کیا ہے آپ کو ان ہواؤں کے رخ پر چلنے کے لئے میں بلا رہا ہوں، ان کے ساتھ ساتھ چلیں۔اور ان سے مزید طاقت پائیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ انقلاب جس کو آپ پہلے دور دیکھا کرتے تھے وہ کس تیزی سے آپ کی طرف بڑھتا ہے۔پس وہ سب مجالس جو آج کسی نہ کسی رنگ میں اجتماع میں شامل ہورہی ہیں ان کو میرا یہی پیغام ہے کہ خَيْرَ أُمَّةٍ بن کر دکھا ئیں خَيْرَ أُمَّةٍ کی تعریف یہ ہے کہ وہ نیک کاموں کی طرف لوگوں کو بلائیں اور جب نیک کاموں کی طرف بلائیں تو خود نیک کام کریں بدیوں سے دنیا کو روکیں اور جب بدیوں سے دنیا کو روکیں تو خود بدیوں سے رکنے کی کوشش کریں اور کوشش کریں کہ رفتہ رفتہ سب بدیاں اپنی ذات سے نوچ نوچ کر باہر پھینک دیں۔پھر وہ اس لائق ہو جائیں گے کہ ایمان کی تعلیم دیں۔جو انسان نیکی پر قائم ہو جائے اور بدیوں سے پاک ہور ہا ہو سچا ایمان تو اسی کو نصیب ہوتا ہے اور وہی ہے جو ایمان کی طرف بلانے کی اہلیت اختیار کر جاتا ہے۔دیکھیں قرآن کریم کی آیات میں کس طرح تطابق ہے ، کتنے گہرے رشتے ہیں فرماتا ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا