خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 705
خطبات طاہر جلد ۱۲ 705 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اوران پر زبان یا ہاتھ یاکسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کر وگو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔“ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۱) اس اقتباس پر میں آج کے خطبے کا مضمون ختم کرتا ہوں جو کچھ آپ کے سامنے آنحضرت ﷺ کی سیرت کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس الفاظ میں میں نے پیش کیا ہے۔اسی کا خلاصہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں یہ پیش کر رہا ہوں۔یہ وہ سیرت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ سب کی ذات میں جاری ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ان باتوں کو اپنا صلى الله لیں یا اپنے وجود کا لازمی اور دائی حصہ بن جائیں تو پھر یقین کریں کہ آپ کا حضرت محمد رسول اللہ سے ایک ایسا گہرا اٹوٹ تعلق قائم ہو جائے گا جو تعلق لا ز ما الہی تعلق میں تبدیل ہوگا کیونکہ محمد رسول اللہ کی ذات سے کوئی تعلق آپ کی ذات پر ٹھہرتا نہیں بلکہ آپ دروازے کی طرح بن جاتے ہیں یہاں سے وہ تعلق گزر کر خدا تک پہنچتا ہے۔آپ کے وجود کے مٹنے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے جسے آپ ہمیشہ پیش نظر رکھیں وہ لوگ جو خدا کی خاطر اپنے وجود کو مٹاتے ہیں جب ان سے تعلق بڑھتا ہے تو وہ شرک نہیں کہلا تا بلکہ ایسے بچے موحدین کے ساتھ تعلق از خود خدا سے تعلق میں تبدیل ہوتا رہتا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ سے آپ کا تعلق آپ کی توحید کی بناء پر ہے اس لئے لازم ہر محبت کا رشتہ الہی محبت کے رشتوں میں تبدیل ہو گا اور یہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف وقتوں میں اور مختلف طریق پر ہمیں سمجھانے کی کوشش کی اسے خوب اچھی طرح سمجھ کر تو حید پر قائم ہوں اور غیر اللہ کی نفی شروع کریں۔غیر اللہ کی نفی سے متعلق انشاء اللہ میں آئندہ خطبات کے سلسلے میں کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔میں ایک دفعہ پھر اس مضمون کو دہراتا ہوں جو توقعات مسیح موعود علیہ السلام کو آپ سے وابستہ ہیں لیکن یا درکھیں کہ مسیح موعود علیہ السلام بھی محمد رسول اللہ کی طرح موحد تھے۔آپ ہی کی غلامی میں آپ کو تو حید کا فیض عطا کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ سے امیدیں وابستہ ہیں ان معنوں میں کہ آپ کی ذات سے توقعات ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقصد کا انحصار آپ