خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 686
خطبات طاہر جلد ۱۲ 686 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء سامنے پڑھ کر سناتا ہوں تا کہ ان کو بھی دعاؤں میں شامل کرلیں۔ایک مجلس خدام الاحمد یہ گھانا کی سالانہ ریلی اس وقت منعقد ہو رہی ہے اور وہ سب بھی ٹیلی ویژن کے ذریعے آپ کے اس پروگرام میں شریک ہیں اور آپ کو اپنے پروگرام میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔مجلس انصاراللہ ضلع حیدر آباد کا سالانہ اجتماع منعقد ہورہا ہے۔خدام الاحمدیہ ضلع میر پور کا سالانہ اجتماع منعقد ہو رہے ہیں۔کراچی کا سالانہ اجتماع کل سے شروع ہو گا اور اطفال الاحمدیہ سرگودھا کا سالانہ اجتماع بھی آج ہی شروع ہو رہا ہے۔اسی طرح امیر صاحب یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ نے درخواست کی ہے کہ مسجد واشنگٹن کی تعمیر کا کام عنقریب شروع ہونے لگا ہے اور تمام احباب جماعت خصوصیت سے واشنگٹن کی مسجد کی تعمیر کے کام کو ور مسجد کو اپنی دعاؤں میں ان معنوں میں یا درکھیں کہ خالصہ توحید کی خاطر قائم ہونے والی یہ مسجد توحید کا حقیقی گڑھ بنی رہے اور توحید کا پیغام سارے امریکہ میں پھیلانے کے لئے ایک اہم اور دائی کردار ادا کرے۔اس دعا میں امریکہ کی بہت اہم تعمیر ہونے والی مسجد کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں۔تو حید کے سلسلے میں خطبات کا ایک سلسلہ جاری ہے جو ابھی تک ختم نہیں ہو سکا۔آج اگر وقت ملا تو کوشش کروں گا کہ ختم ہو ورنہ پھر آئندہ خطبے تک مضمون کو مزید بڑھانا پڑے گا۔دراصل تو حید کا مضمون خصوصیت کے ساتھ اس سال سے تعلق رکھتا ہے جسے ہم نے عالمی خدمت بنی نوع انسان کا سال قرار دے رکھا ہے۔میں آپ پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ توحید کے بغیر قیام عدل ممکن نہیں اور جب تک قیامِ عدل نہ ہو اس وقت تک کوئی احسان کا نظام جاری نہیں رہ سکتا۔یہ خدمت خلق کی باتیں ، یہ ایک دوسرے کی بھلائی کے قصے، یہ غریبوں کو امداد دینا ، اگر عدل کا نظام نہ ہو تو یہ سب منہ کی باتیں ہیں۔ان میں کوئی بھی حقیقت اور گہرائی نہیں پائی جاتی۔پس تو حید ہی وہ بنیاد ہے جس پر عدل قائم ہوسکتا ہے اس کے بغیر کسی اور بنیاد پر عدل قائم نہیں ہوسکتا عدل قائم ہو تو احسان کی بات ہوتی ہے بغیر عدل کے احسان کی بات نہیں ہوا کرتی ہے۔اس پہلو سے میں نے اپنے خطبات کو سب سے پہلے تو جماعت کے فائدے تک ہی محدود رکھا ہے یعنی اپنے دلوں میں توحید قائم کرو، اپنے نفوس میں توحید قائم کرو، اپنی نیتوں میں توحید قائم