خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 654
خطبات طاہر جلد ۱۲ 654 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء کیونکہ جب رقیب پیدا ہو جائیں تو پھر عدل نہیں رہا کرتا۔پھر کھینچا تانی ہوتی ہے، پھر اپنوں کو دوسروں پر غالب کرنے کے لئے انصاف ہو یا نہ ہو ہر کوشش کی جاتی ہے اور خاص طور پر اگر دونوں رقیب طاقتور ہوں کہ ایسی صورت میں عدل کے بر عکس فساد ضرور بر پا ہوتا ہے تو قرآن کریم نے اسی مضمون کو دوسری جگہ فرمایا۔لَفَسَدَنَا (الانبیاء:۲۳) اور اگر خدا کے سوا کوئی اور الہ ہوتا تو زمین و آسمان میں فساد پھیل جاتے۔تو عدل کا فقدان لازماً فساد برپا کرتا۔توحید خالص کے نتیجے میں لازم ہے کہ عدل پیدا ہو کیونکہ جس خدا کے سب ہیں وہ لازماً ان کو ایک نظر سے دیکھے گا۔جس کی تمام کی تمام کائنات اسی کی ہے اس کو ضرورت کوئی نہیں ہے کہ ایک کو دوسرے سے فرق کر کے دکھاوے ورنہ اپنی ذات میں تفریق پیدا کرنے والا ہوگا۔پس پاگل ہی ہے جو اپنی ذات کو پھاڑ دیا کرتا ہے۔پاگل ہی ہوتا ہے جس کے اندر سے دو وجود ہوتے ہیں۔ایک پہلو سے ایک پاگل ایک وجود اختیار کر لیتا ہے دوسرے پہلو سے دوسرا وجود اختیار کر لیتا ہے۔مگر وہ جو حکیم ذات ہو وہ اپنے اندر تفریق پیدا نہیں کیا کرتی لیکن اس سے پہلے عزیز کا ذکر فر مایا۔دراصل صفت عزیز بھی توحید سے اور عدل سے بہت گہراتعلق رکھتی ہے۔عزیز کا جو تر جمہ آپ کو قرآن کریم میں ملے گا یعنی عام طور پر ہر جگہ لکھا ہوا۔یہی دکھائی دے گا کہ غالب لیکن عزیز محض غالب نہیں ہے اس سے پہلے ایک موقع پر میں نے درس قرآن کے وقت یہ ثابت کر کے دکھایا تھا کہ لفظ عزیز میں عزت اور احترام کا مضمون داخل ہے محض غلبے کا مضمون نہیں۔پس غالب دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایسے غالب جن کا زور تو چلتا ہے مگر لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں ، ان کو بددعائیں دیتے ہیں، ان کا بد انجام دیکھنے کی تمنا کرتے ہیں۔جب تک وہ غالب رہیں ان کے سامنے گردنیں جھکی رہتی ہیں مگر دل نہیں جھکتے اور دماغ ان سے مطمئن نہیں ہوا کرتے لیکن بعض ایسے غالب ہوتے ہیں جن کو قو میں دعائیں دیا کرتی ہیں۔ان کی رعایا ان کے لئے دن رات دعائیں کرتی ہے ، ان کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے، ان کو سچی گہری عزت کی نظر سے دیکھتی ہے ایسی عزت جوان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔پس وہ غلبہ جس کے ساتھ انصاف ہو وہی عزیز کا غلبہ ہوا کرتا ہے وہ غلبہ جو انصاف سے عاری ہو وہ کبھی عزیز کا غلبہ نہیں بن سکتا۔پس فرمایا کہ وہ عزیز ہے یعنی ایسا صاحب عزت ہے جس کو ایسا