خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 645
خطبات طاہر جلد ۱۲ 645 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء قدرت ثانیہ کے ہوتے ہوئے کسی اور مجدد کی کوئی ضرورت نہیں۔تو حید نے غلاموں کو بھی ایسی عزت دی کہ وہ سیدنا بن گئے ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ راگست ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔شَهِدَ الله أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَبِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَابِمَا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (ال عمران : ١٩) وَالهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ) (البقره: ۱۶۴) پھر فرمایا:۔پہلی آیت ال عمران سے آیت ۹ تھی دوسری آیت سورۃ البقر ۱۶۴۰ ہے۔توحید کا جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کی طرف آنے سے پہلے چند اجتماعات سے متعلق اس خواہش کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ان اجتماعات کا بھی آج کے خطبے میں ذکر کیا جائے اور ان کے نام کوئی پیغام ہو۔یہ سلسلہ تو اب دراز ہوتا چلا جائے گا اور پھیلتا چلا جائے گا۔اب تو شاید ہی کوئی خطبہ ایسا ہو جس میں کسی نہ کسی جگہ جماعت احمدیہ کا اجتماع نہ ہو رہا ہو یا مجالس کا اجتماع نہ ہو رہا ہو۔دراصل ہر خطبہ ساری جماعت ہی کے لئے پیغام ہوتا ہے اور وہی پیغام تمام اجتماعات کا پیغام بننا چاہئے مگر کچھ دوستوں میں یہ تمنا ہوتی ہے کہ ہمارا نام خطبے میں آ جائے ، ہماری مجلس کا ذکر آئے تو دراصل پیغام سے زیادہ اس خواہش کا اظہار ہے کہ ہمارا نام بھی خطبے میں چپکے اور ساری دنیا میں پھیلے۔