خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 488
خطبات طاہر جلد ۱۲ 488 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء میں اپنا وطن زندہ رہے، اگر اس وطن کو دوبارہ حاصل کرنے کی تمنا ان کے دلوں میں زندہ رہے، وہ ارادے مضبوطی کے ساتھ ان کے دلوں میں جاگزیں ہو چکے ہوں تو بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل گزرتی ہے اور دوسری کے بعد تیسری گزر جاتی ہے اور تیسری کے بعد چوتھی نسل گزرتی ہے ، صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی ہیں لیکن وہ تو میں جو یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ ہم نے وطنوں کو اپنے سینوں میں زندہ رکھنا ہے اور ضرور حاصل کر کے چھوڑنا ہے تو ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض دفعه ۲ ۲ ہزار سال کی مدت گزرنے کے بعد انہوں نے ان وطنوں کو پھر حاصل کیا ہے۔یہود سے نفرت کی تعلیم تو عام مسلمان دوسرے مسلمانوں کو دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ان کا تعلق رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ سے ہے، بھول جاتے ہیں کہ یہود کو اسلام میں داخل کرنا ان کا اولین فریضہ ہے، نہ کہ محض نفرت کی تعلیم دینا لیکن ان کی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ان کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ فلسطین سے ان کو نکالے ہوئے تقریباً دو ہزار سال برس گزر گئے یا یوں کہنا چاہئے کہ انیس سو برس گزر چکے تھے لیکن نسلاً بعد نسل انہوں نے ایک دوسرے کو یہی تعلیم دی اور اس یا د کوزندہ رکھا اور یہ پیغام دیا کہ ہمارا وطن ہمارے سینوں میں زندہ رہے گا، ہمارا وطن ہمارے دماغوں میں زندہ رہے گا جب تک ہم فلسطین کو اپنی قوم کے لئے دوبارہ حاصل نہیں کر لیں گے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے اس کے لئے مسلسل منصوبے بنائیں گے۔میں یہ مانتا ہوں کہ ان کے منصوبے عیارانہ تھے، ان کے منصوبوں میں مکاری تھی، مجھے تسلیم ہے کہ ان کے منصوبوں میں ظلم کا پہلو شامل تھا لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے فلسطین کو اپنے سینوں میں زندہ رکھا تو دیکھیں کہ کس طرح 1900 سال کے بعد ان کو یہ توفیق ملی کہ وہ پھر اپنے وطن میں دوبارہ چلے گئے۔پس Bosnians کو یہ بتائیں کہ ہم 1900 سال کے لیے لیکھوں کی بات نہیں کر رہے۔ہم خدا سے یہ دعا کریں گے اور توقع رکھیں گے کہ ہماری دعاؤں کے طفیل آپ کے ہجرت کے دن کٹ جائیں اور چھوٹے ہو جائیں لیکن آپ کو لازماًیہ عہد کرنا ہو گا کہ وہ بوسنیا جس کی سرزمین آپ کے پاؤں تلے سے نکال دی گئی ہے، جس سے آپ کو بے وطن کر دیا گیا ہے، اب آپ کے دلوں میں زندہ رہے گا ، آپ کے دماغوں میں زندہ رہے گا، آپ کے کردار میں زندہ رہے گا، اگر ایک بھی ایسا بوسنین باقی ہے۔جس کے دل اور ذہن اور جس کے کردار میں بوسنیا زندہ ہے تو خدا کی قسم اس ایک کو بھی ہماری دعاؤں سے