خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 294

خطبات طاہر جلد ۱۲ 294 خطبه جمعه ۶ اراپریل ۱۹۹۳ء کہ دیکھو کیسی عظیم تبدیلی واقع ہوئی ہے کہ تم بحیثیت بشر ہو۔جو تخلیق کائنات کی سب سے اوپر کی منزل پر کھڑا ہے، ایسے بشر کی صورت میں تم دنیا میں ہر طرف پھیل گئے پھر فرمایا وَمِنْ الله آنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا اس کے نشانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا تا کہ تم ایک دوسرے سے سکینت حاصل کرو۔الیھا کا معنی ہے اس کی طرف سکینت کی خاطر ، سکینت کی تلاش میں جھکو وَجَعَلَ بَيْنَكُمُ مَّوَدَّةً وَ رَحْمَةً اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ نے محبت اور رحمت رکھ دی ہے۔پس میاں بیوی کے تعلقات کا اس سے بہتر نقشہ نہیں کھینچا جا سکتا۔پہلے تو یہ بتا دیا کہ تم سب خاک کے پتلے ہو۔ایک دوسرے پر تمہیں کوئی فضیلت نہیں ہے اور ایک ہی وجود سے پیدا کئے گئے ہو اور رشتوں کی ایک وجہ تو وہ ہے جو پہلی آیت میں بیان ہوگئی کہ تنتَشِرُونَ یعنی تم نشو ونما پاتے ہو اور دنیا میں پھیل جاتے ہو اور پھیل چکے ہو۔دوسری وجہ جس کی طرف عموماً توجہ نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً " تاکہ تم اپنے جوڑے سے تسکین حاصل کرو یعنی اپنے دوسرے زوج سے تسکین حاصل کرو۔الیھا میں تانیث کی ضمیر ہے یعنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کو خصوصیت سے مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ تا تم اپنی بیوی سے تسکین حاصل کرو۔یہ کہنے سے ایک غلط نہی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔جیسا کہ اکثر دنیا کے معاشروں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مرد کا کام ہے عورت سے تسکین حاصل کرے۔عورت کا کام ہے تسکین دے اور اس کے بعد چھٹی اور مرد پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔اس باطل خیال کو زائل کرنے کی خاطر معاً بعد فرمایا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَ رَحْمَةً اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان گہری محبت اور رحمت کا رشتہ قائم فرما دیا ہے اور یہ رشتہ دونوں طرف سے ہے۔بَيْنَكُمْ ہے اور بیگم نے مضمون کو اور زیادہ وسیع فرما دیا۔بینکما نہیں کہا بلکہ بَيْنَكُم یعنی وہ بچے جو میاں بیوی کے تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ بھی آپس میں محبت اور رحمت کے تعلقات سے زندگی بسر کریں اور سارے معاشرہ کے لئے یہ پیغام ہے کہ عائلی زندگی میں مودت اور رحمت کو اختیار کرو۔یہ وہ پہلو ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ یہ ذکر کرتا ہوں کہ بار ہا یہ فصیحت کرنے کے باوجود اکثر دنیا سے ایسے ہی خط ملتے ہیں جن سے پتا