خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد ۱۲ 183 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء اجزی به کا ذکر ملتا ہے۔) والصيام جنة فاذا كان يــوم صــوم احدكم فلايرفث و لا يصخب فان سابه احد او قاتله فليقل: اني صائم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم اطيب عند الله من ريح المسك۔للصائم فرحتان يفرحهما، اذا افطر فرح و اذا لقى ربه فرح بصومه بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۷۱) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اللہ عز وجل فرماتا ہے کل عمل ابن آدم له انسان کا ہر عمل اُس کی خاطر ہوا کرتا ہے الا الصیام سوائے روزے کے۔روزے اُس کے لئے نہیں ہوتے فانہ لی وہ میری خاطر ہوتے ہیں۔و انا اجزی به اس کا ترجمہ ایک یہ بنتا ہے کہ میں اُس کی جزاء دیتا ہوں اور دوسری روایت کے مطابق میں خود اُس کی جزاء ہوں۔والصيام جنة روزے تو ڈھال کی طرح ہوتے ہیں۔فاذا كان يوم صوم احدکم فلايرفث و لا يصخب جب بھی انسان کو روزے کا دن نصیب ہو ، اُس دن وہ بیہودہ گوئی سے کام نہ لے اور شور وشر سے پر ہیز کرے۔اگر اُسے کوئی شخص گالی دے یا اُس سے لڑائی کرے تو اُسے بیہ کہے کہ میں تو روزے دار ہوں۔وہ ذات جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔یہ رسول اللہ اللہ فرماتے ہیں۔اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدمی اللہ کی جان ہے۔روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے حضور مشک کی خوشبو سے بہت بہتر ہے۔للصائم فرحتان روزے دار کے لئے دو خوشیاں مقدر ہیں۔ایک وہ جب وہ روزہ کھولتا ہے تو فرحت سے لبریز ہو جاتا ہے اور دوسری خوشی جب وہ اپنے رب کو پالیتا ہے۔اس حدیث کے تعلق میں بعض وضاحتیں ضروری ہیں۔سب سے پہلے تو یہ فرمایا گیا کہ ہر نیکی انسان اپنے لئے کرتا ہے اور یہ نیکی جو ہے یہ اللہ کی خاطر ہے اور اللہ اس کی جزاء ہے یا اللہ اس کی جزاء دیتا ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا نماز میں اپنے نفس کے لئے پڑھی جاتی ہیں؟ کیا خدا کی راہ میں خرچ اپنے نفس کے لئے کیا جاتا ہے؟ کیا بنی نوع انسان کی دوسرے رنگ میں خدمت کرنا انسان اپنے نفس کی خاطر کرتا ہے؟ اور صرف روزہ خدا کی خاطر رکھتا ہے۔یہ تو قابل فہم بات ہی نہیں ہے۔اس لئے عام طور پر جو لوگ اس حدیث کو پڑھ کر گزر جاتے ہیں، غور نہیں کرتے وہ ایک اہم بنیادی نکتے سے محروم رہ جاتے ہیں۔جس حقیقت کی طرف اس میں اشارہ فرمایا گیا ہے اُس حقیقت کو سمجھے