خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 171

خطبات طاہر جلد ۱۲ 171 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء حفاظت کرتا ہے تو یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر بغیر محنت کے بھی اُسے وہ چیز نصیب ہو سکے تو ضرور محنت کرے۔بعض دفعہ بعض حالات میں ایک زمیندار کو زیادہ کڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔سخت سردی میں اس کو صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے جب کو راجم رہا ہو اس وقت کھیتوں میں پانی دینا پڑتا ہے بعض دفعہ اسی کام کے لئے اس کو بہت کم محنت کرنی پڑتی ہے۔اچھے موسم میں صبح نکلنے کو ویسے ہی انسان کا دل چاہتا ہے لطف اٹھاتا ہے انسان تو سختی فی ذاتہ مراد تو نہیں ہوتی۔کوئی زمیندار کہے کہ نہیں ، چونکہ میں نے زیادہ سختی نہیں کی اس لئے مجھے پھل کم ملے گا۔جتنی سختی آسانی کے لئے ضروری ہے عقل کا تقاضا ہے۔اتنی ہی سختی کی جائے اور خدا تعالیٰ اس سے زیادہ بختی انسان پر نہیں ڈالتا۔ہر سختی کے نتیجے میں ایک آسانی ہے اور وہ ضروری ہے کہ اس سختی سے گزرا جائے اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح: ۷) بظاہر اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے۔ہر عسر کے بعد ایک آسانی ہے، ہر عسر کے بعد ایک آسانی ہے۔لیکن اگر بنظر غور دیکھیں تو ہر عسر مراد نہیں ہے۔بعض تو میں سختی کی چکی میں پیسی جاتی ہیں۔وہ شدائد اور مصائب کا شکار ہو کر پارہ پارہ اور ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں اور ان کے لئے کوئی آسانی بعد میں نہیں آتی۔تو الْعُسْرِ سے مراد یہاں وہ عسر ہے جس کی قرآن نے تعلیم دی ہے وہ عسر جو خدا کی رضا کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے۔وہ بختی جو انسان خدا کی خاطر جھیلتا ہے ہر وہ بنتی جس کا شریعت سے تعلق ہے اس کے متعلق لازماً یہی قانون ہے اور کوئی اس کو بدل نہیں سکتا فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح : - ) یاد رکھو جتنی پابندیاں تم پر لگائی گئی ہیں، جتنی سختیاں تم پر عائد کی گئی ہیں ان میں سے ایک بھی بے فائدہ نہیں ہے۔ہر ایک کا فائدہ ہے، ہر ایک کے نتیجے میں تمہیں آسانیاں نصیب ہوں گی۔پس یہی وہ مضمون ہے جس کو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ عر کبھی بھی اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کا مقصود نہیں رہا کہ سختی کی خاطر سختی ڈالو بلکہ آسانی پیدا کرنا ہے جہاں آسانی سختی کے راستوں سے گزرنے کے بعد نصیب ہوتی ہے وہاں تمہیں سختی سے گزارا جائے گا۔اگر ایک بچے کو سکول بھیجے بغیر وہ تمام تعلیم ودیعت ہو جائے جو سکول جانے کے نتیجے میں آتی ہے تو کسی ماں کو کیا ضرورت ہے کہ وہ صبح صبح اٹھائے ،خود مصیبت میں مبتلا ہو، اسے مصیبت میں مبتلا کرے اور روزانہ سکول بھی بھیجے اور اُس کے خرچ بھی برداشت کرے۔اگر گھر بیٹھے ایک صبح اُسے سب کچھ مل جائے اور علم اور ذہن روشن ہو