خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد ۱۲ 153 خطبه جمعه ۱۹ر فروری ۱۹۹۳ء جو خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے جاری ہوا ہے۔یہی حال اس زمانہ میں واقعہ ہوگا۔پس سن لیں جس کو دوکان دیئے گئے ہیں اور نور کی اشاعت کے لئے صور پھونکا جائے گا۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو موجود تھے لیکن الہامی کلام تھا آپ کی شان جو دنیا میں پہنچنی تھی وہ بعد کے زمانہ میں جانی تھی۔اس لئے اس زمانہ کی بات کر رہے ہیں۔حالانکہ وہ زمانہ آپ ہی کا ہے تو فرمایا کہ۔سن لے جس کے کان سننے کے ہیں جس کو دوکان دیئے گئے ہوں اور نور کی اشاعت کے لئے صور پھونکا جائے گا اور سلیم طبیعتیں ہدایت پانے کے لئے پکاریں گی اس وقت مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب کے فرقے خدا کے حکم سے جمع ہو جائیں گے۔“ خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳ ۲۸ تا ۲۸۵) پس یہ جو خدا کے فضل سے سعید روحیں مشرق اور مغرب شمال اور جنوب کی اس ذریعہ سے جو بجلی کی سرعت کے ساتھ ساری دنیا میں پھیلتا ہے جمع ہورہے ہیں یہ الہبی نوشتوں کی باتیں ہیں۔قرآن کریم کی پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو رہی ہیں۔یہ عجیب جمع ہے کہ زمانہ بھی جمع ہورہا ہے اور یہ زمانہ گزشتہ زمانوں سے بھی جمع ہورہا ہے اور جمعوں کے ذریعہ اس عالمی جمع کا عالمی انتظام فرمایا گیا ہے۔اب دوستوں کے چند اقتباسات، جتنا وقت ہے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں باقی پھر انشاء اللہ۔ہندوستان سے ایک دوست لکھتے ہیں کہ ” آپ سے ملاقات کا ایک عجیب سا موسم شروع ہوا ہے “ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ان معنوں میں بہت پیارے انداز میں فرمایا ہے کہ موسم ہوتے ہیں۔لوگوں کے آنے کے بھی اور جانے کے بھی۔یہ جو فر مایا ہے تو خدا تعالیٰ محبت کے نتیجہ میں فصاحت و بلاغت عطا کرتا ہے۔اب زیادہ پڑھے ہوئے دوست نہیں ہیں جن کا خط ہے۔مگر دیکھیں کیسا پیارا فقرہ لکھا ہے۔آپ سے ملاقات کا ایک عجیب سا موسم شروع ہوا ہے جس میں جوسرور ہوتا ہے وہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔