خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد ۱۲ 101 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء زندگی کے بعد دکھائی جائیں گی کچھ اس دنیا کے عذاب ہیں، کچھ اس دنیا کے عذاب ہیں کیونکہ خدا کا تناظر اور ہے اور بندے کا تناظر اور ہے۔اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ساری کائنات ایک سطح کی طرح ہے اس میں نہ کوئی ماضی ہے، نہ حال نہ کوئی مستقبل۔وہ ایک ایسی نظر سے سب واقعات کو اور سب کائنات کو دیکھ رہا ہے جیسے اس کی تصویر سامنے بچھ گئی ہو۔پس یہ دنیا ہو یا وہ دنیا ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وقت کی کوئی جلدی نہیں اور خدا کے صبور ہونے کا ایک یہ بھی مطلب ہے انسان وقت کی نسبت سے بے صبرا ہوتا ہے وقت جتنا آہستہ گزرے اور نتیجہ سے زیادہ پیار ہو ( ان دونوں کے درمیان ایک ایسی نسبت ہے کہ وقت آہستہ گزرے) تو نتیجہ دور دکھائی دینے لگتا ہے جس سے پیار ہو اس کے انتظار میں وقت ویسے ہی آہستہ گزرتا ہے اس کے نتیجہ میں بے صبری پیدا ہوتی ہے مگر وہ خدا جو Space , Time کا خدا ہے ایسی کائنات کا خدا ہے جہاں مکان اور وقت دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے ہیں اور ایک ہی چیز کے دو جز بن جاتے ہیں جیسے دودھاگوں سے ایک چیز بنی جارہی ہو۔ایسے ہی عالم وجود وقت اور Space دونوں کی بنتی کا نام ہے وہ خدا جو وقت اور مکان سے بالا ہے اس کو یہ ساری چیزیں اپنے سامنے کھلی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔اس لئے اُسے انتظار میں بے صبری پیدا نہیں ہوسکتی۔جسے چیز سامنے دکھائی دے،اس طرف بھی اور اس طرف بھی، اس کے لئے بے صبری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس حقیقت میں اللہ ہی کی ذات صبور ہے ورنہ انسان خواہ کتنا ہی صبر والا ہو کچھ نہ کچھ صبر کے عدم کی کیفیات بھی اس کے ساتھ لگی رہتی ہیں کچھ نہ کچھ بے چینی ضرور رہتی ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھیں کہ خدا کی طرف سے غیر معمولی قوت یافتہ تھے لیکن اسلام کی فتح کے انتظار کی باتیں کرتے ہیں تو بے قرار ہو جاتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے کوئی بہل خاک اور خون میں لتھڑا ہوا تڑپ رہا ہو اور عرض کرتے ہیں کہ شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا (در مشین : ۱۰) پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺے کی بھی اگر کوئی بے چینی تھی یا کوئی بے صبری تھی تو وہ خدا ہی کے سامنے بیان ہوتی تھی مگر تھی وہ غلبہ اسلام اور نیکیوں کے غلبہ سے متعلق۔جس چیز سے محبت ہو وہ اگر سامنے دکھائی نہ دینے لگے تو ظاہر ہے کہ اس کے انتظار میں ایک تکلیف کی حالت پیدا ہوتی ہے اور