خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد ۱۲ 9 99 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء مسلمان دنیا صبر اور سچائی پر قائم ہو جائے تو ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے گی۔امت مسلمہ کو نصیحت۔(خطبه جمعه فرموده ۵ فروری ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لنڈن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (الصف: ۱۳۳۱۱) پھر فرمایا:۔قرآن کریم میں بسا اوقات ایک ہی نیکی کو مختلف رنگ میں مختلف الفاظ میں، مختلف آیات کریمہ میں بیان فرمایا جاتا ہے اور نتیجہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات بیان فرمائی جاتی ہیں بعض دفعہ بعض اور صفات بعض دفعہ ثواب کا ایک نتیجہ دکھایا جاتا ہے اور بعض دفعہ ایک اور ثواب کا نتیجہ دکھایا جاتا ہے درحقیقت گہرے غور سے پتا چلتا ہے کہ مختلف صورتِ حال میں کی جانے والی نیکی در اصل مختلف تقاضے رکھتی ہے اور انسانی حالات بدلنے سے نیکی کے اجر بھی بدلتے رہتے ہیں۔یہ آیات جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں ایک ایسی تجارت کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو عذاب الیم سے نجات ملے گی حالانکہ باقی جگہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نتیجہ کے طور پر مثبت رنگ میں ثواب کا ذکر ملتا ہے نہروں والی جنات ہوں گی یا بیہ