خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1013 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1013

خطبات طاہر جلد ۱۲ 1013 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء جاتے ہیں ہم تمام دنیا کے احمدیوں اور دوسروں کو بھی جو جماعت سے فیض حاصل کرنا چاہیں سکھانا شروع کریں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا انشاء اللہ تعالیٰ کھیلوں کے پروگرام کے متعلق جو میں نے ٹیم مقرر کی ہے وہ جب یہ کام مکمل کرلے گی تو مختلف کھیلوں کے احمدی پروگرام بھی احمد یہ مسلم انٹر نیشنل ٹیلی ویژن پر آپ کو دکھائے جائیں گے۔باہر سے پروگرام مل تو سکتے ہیں مثلاً تیرا کی کا اور بیڈ منٹن وغیرہ کا بھی نہیکن ان میں کچھ مشکلات ہیں اول یہ کہ یہ لوگ جب تک بیچ میں ننگے جسم نہ دکھا لیں ان کو چین ہی نہیں پڑتا۔فٹ بال سکھانا چاہیں تو پھر بھی بے حیائی ساتھ جائے گی، تیرا کی سکھانا چاہیں تو اور بھی زیادہ بے حیائی ساتھ آئے گی اور پھر میوزک کے بغیر تو رہ ہی نہیں سکتے۔ہم نے سوچا ہے کہ اپنے پروگرام بنا ئیں ماہرین ان کے ہوں ، مزاج ہمارا ہوا اور میوزک کی بجائے درود شریف پڑھے جائیں، میوزک کے بغیر خوبصورت آواز میں نغمے ہوں گے، حمد وثنا ہوگی وقفہ جو بیچ میں لانا ہے تا کہ ”منا پلی“ (Monopoly) یعنی یکسانیت توڑی جائے وہ وقفہ بھی پاکیزہ باتوں کا وقفہ ہو گا لیکن طبیعت اس سے لذت پائے گی تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ کھیلوں کا پروگرام بھی جاری ہوگا۔پھر قاعدہ میسرنا القرآن ہے اس کا تمام زبانوں میں ترجمہ کرنا مشکل کام ہے اگر ترجمہ کر بھی دیا جائے تو قرآن کا صحیح تلفظ سیکھنا قاعدوں کے ذریعے ممکن ہی نہیں ہے۔استاد کی لازما ضرورت پڑتی ہے۔پس اس سلسلے میں بھی ہم خدا کے فضل سے پروگرام شروع کر چکے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں کو ان کی زبانوں میں قرآن کی تلاوت کرنے کا طریقہ سکھائیں جیسے ہاتھ پکڑ کر بچوں کو سکھایا جاتا ہے اس طرح انگلی نقطوں پر رکھ رکھ کر ان کو سکھائیں گے ، ہمارے پاس کھلا وقت ہے وقت دے کر ان کو سکھائیں گے۔پروفیشنل میں ایک یہ بھی مسئلہ ہے کہ چونکہ انہوں نے کمائی کرنی ہوتی ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ معلومات تھوڑے وقت میں بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔زبانیں بھی آپ ویڈیو کے ذریعے سکھنے کی کوشش کریں تو تین گھنٹے ، چار گھنٹے، چھ اور نو گھنٹوں سے زیادہ کی ویڈیو نہیں ملے گی اور اس عرصے میں انسان تیزی کے ساتھ ان زبانوں کو جذب کر ہی نہیں سکتا ہم نے جو پروگرام بنایا ہے خواہ وہ زبانوں کا ہو یا قرآن کریم پڑھنے لکھنے کا ہو وہ آرام سے چلے گا ایک سال تک لکھنا پڑھنا سکھائے بغیر مسلسل زبان سکھائی جائے گی ، جب زبانوں میں اتنی مہارت حاصل ہو جائے گی جیسے تین چار سال کا بچہ جو لکھنے پڑھنے کے قابل ہوتا ہے اسے مہارت ہو جاتی ہے اور پھر اسی طریق پر جیسے بچے