خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 897 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 897

خطبات طاہر جلد ۱۱ 897 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء دعوت الی اللہ کے کام کو منظم طور پر کریں۔بنگلہ دیش کی سر براہ کو تنبیہ اور نصیحت خطبه جمعه فرموده ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ( النساء:۵۹) پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانات ان کے اصل کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں پر ان کے انصاف کے لئے مقرر کئے جاؤ۔یہ مقرر کرنے کا معنی میں نے مفہوم کے طور پر بیان کیا ہے۔آیت کا ترجمہ صرف اتنا ہے کہ وَإِذَا حَكَمْتُمُ بَيْنَ النَّاسِ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، مقرر کئے جانے کا معنی میں نے اس لئے بیچ میں بیان کیا ہے کہ آیت کے پہلے حصے کا اس سے تعلق ہے ، اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَنتِ إِلَى أَهْلِهَا اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اے اپنے حاکموں کا انتخاب کرنے والو! جب تم اپنے حاکم چنا کرو، امیر چنا کرو تو یا درکھو کہ اسی کو چنو جو اس کا اصل ہو۔اب آیت کروٹ بدلتی ہے اور جو چنا جاتا ہے اس کو مخاطب ہوتی ہے تو ان معنوں میں مقرر ہونے کا مضمون اس میں داخل ہے۔پس معنی یہ ہوئے کہ وہ جو چنے جاتے ہیں جن پر