خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 802
خطبات طاہر جلد 802 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء اموال چھینے گئے ، ان کے گھروں کو جلایا گیا لیکن کلمہ کی حفاظت سے ایک قدم بھی یہ پیچھے نہیں ہے۔تو ان کے خلاف تم دعوی کرتے ہو کہ یہ غیر مسلم ہیں ؟ تمہیں تو عقل نہیں ہے، تم تو عقل سے کلیۂ عاری ہو چکے ہولیکن بنگلہ دیش کے سیاست دان پر مجھے توقع ہے کہ وہ بہتر دانشوری کے نمونے دکھائے گا۔انہیں عقل اور فہم عام دوسرے پاکستانی سیاستدانوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔میرا تجربہ ہے میں بنگال میں بہت پھر چکا ہوں۔ان لوگوں میں عقل نسبتاً زیادہ ہے اور منطق کی بات کی جائے تو ضد نہیں کرتے اور سمجھ جاتے ہیں اس لئے وقت ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ عقل اور ہوش کے ناخن لو۔خوفناک سازش کا نہ صرف شکار ہو اور نہ قوم کو شکار ہونے دو۔تمہاری نہ دنیار ہے گی نہ تمہارا دین رہے گا۔ایک لا الہ الا اللہ کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے۔گلی گلی سے احمدیوں کی روحیں قیامت کے دن تمہارے خلاف شہادت دیں گی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھیں گی۔اس وقت کس منہ سے خدا کو جواب دو گے کہ ہم نے ان لوگوں پر ظلم کیا ان پر ستم کیا ان کی جانیں لیں اور ان کی عزتیں لوٹیں اور ان کو غیر مسلم قرار دے دیا۔اللہ تعالیٰ تمہیں عقل دے اور ہوش دے اور تم اس بد نصیب کہانی کو دہرانے والے نہ بنو جو پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے دہرائی گئی تھی اس کی پاداش آج تک اسی طرح جاری وساری ہے۔وہ واقعہ تو تاریخ کا حصہ بن گیا ہے لیکن سزا ایک زندہ حقیقت کے طور پر قوم سے چمٹ بیٹھی ہے اور چھوڑنے کا نام نہیں لیتی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا۔کیونکہ سردیوں کے چھوٹے دن آگئے ہیں اور اتنے چھوٹے ہو گئے ہیں کہ جمعہ کا خطبہ ختم ہونے سے پہلے پہلے عصر کا وقت شروع ہو چکا ہوتا ہے اس لئے حسبِ سابق جب تک یہ صورتِ حال کی مجبوری رہے گی ہم جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز جمع کیا کریں گے اور جب یہ دن اتنے لمبے ہو جائیں کہ جمعہ کا وقت اور عصر کا الگ الگ ہو جائیں تو انشاء اللہ پھر حسب سابق جمعہ اور عصر کی نمازیں الگ الگ پڑھی جایا کریں گی۔