خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 672
خطبات طاہر جلدا 672 خطبه جمعه ۸ ار ستمبر ۱۹۹۲ء کتابیں اور ، ان کی کہانیاں اور ان کے لطائف اور ، ان کی نظمیں اور حالانکہ پرانے زمانے میں یہ خوبی تھی تعلیمی نظام میں کہ پچاس پچاس سال تک بھی ابتدائی بنیادی تعلیم کی کتا بیں بدلا نہیں کرتے تھے اور ایک رسی میں ایک کے بعد دوسری نسل باندھی جاتی تھی۔تو اس پہلو سے آپ نے جو کتا ہیں پڑھی ہیں شروع میں بچپن میں، وہ مہیا کرنے کی کوشش کریں اپنے بچوں کو وہ پڑھائیں۔ان کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔پھر اور کلچرل باتیں ایسی ہیں جن کو آپ ان پر نافذ کر سکتے ہیں مثلاً بچپن کی کھیلیں ہیں۔میروڈ بہ کھیلا ہوا ہے آپ نے ، آپ نے کوکلا چھوپا کی شب برات آئی یہ کھیلا ہوا ہے۔آپ نے آتے ہیں آتے ہیں ٹھنڈے موسم میں کئی قسم کے کھد و کھیلے ہوئے ہیں۔تو یہ ساری کھیلیں ہیں یہ بھی آپ کی نسلوں کے درمیان مضبوط رابطے قائم کرنے والی چیزیں ہیں۔اس کے کھیل کے نام سے ہی فوراً آپ کو پرانی فضائیں یاد آ جاتی ہیں، وہ موسم تازہ ہو جاتے ہیں جن میں کھیلا کرتے تھے۔تو ان میں اپنے بچوں کو بھی شریک کریں۔ورنہ ہوگا یہ کہ یہ آپ کی آنکھوں کے سامنے یہ ایسی نسل بن کر اٹھیں گے کہ جن کی آنکھوں میں غیریت پائی جائے گی۔وہ آپ کو اس طرح دیکھیں گے کہ پتا نہیں کس زمانے کے لوگ کہاں سے آگئے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں ان کی باتوں کو ، نہ آپ اُن کی باتوں کو سمجھیں گے ، نہ یہ آپ کی باتوں کو سمجھیں گے۔اس لئے زبان اور تمدن کے روابط کو غیر معمولی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ان کی زبانیں بھی سیکھیں اور ان کے طور طریق بھی سیکھیں لیکن اپنے بچوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔وہ بات نہ ہو کہ غالب کہتا ہے: یہی ہے آزمانہ تو ستانا کس کو کہتے ہیں عدو کے ہو لئے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو (دیوان غالب صفحہ ۱۹۴۰) یعنی تم اتنے غیر بن گئے ہو کہ غیر ہی کے ہو چکے ہو اس کو آزمائش نہیں کہا جا تا یہ تو بڑا دکھ ہے۔اس لئے اپنے بچوں کو غیر کا نہ ہو جانے دیں۔ان کے ذریعہ آپ نے غیروں کے دل جیتنے ہیں یہ مقصد ہے جو آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے۔غیر قوموں کو اپنانے کے لئے یہ آپ کی رسیاں ہیں جو پھینکی گئی ہیں۔ان کو پکڑ پکڑ کر غیر قو میں آپ کی طرف آئیں گی لیکن اگر آپ کے ہاتھ سے یہ رسی چھوٹ جائے پھر تو غیروں کے ہو گئے یہ سب کچھ۔اس لئے ہر پہلو سے اپنے مزاج میں، اپنی ہوش