خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 472
خطبات طاہر جلدا 472 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء والے جماعت کے مختلف افراد تک پہنچتے تو ہیں لیکن بر وقت نہیں پہنچتے۔مثلاً ایک سال گزرنے کو ہے۔گیارہ مہینے ہو گئے ہیں اور سیکرٹری مال اچانک جاگ اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ او ہو ہوا بھی تو میری کافی رقم وصول ہونے والی ہے۔وہ پھر دروازے کھٹکھٹاتا ہے۔پہنچ تو جاتا ہے لیکن بروقت نہیں پہنچتا۔اگر پہلے مہینے میں پہنچے تو بالعموم ہمارا یہ تجربہ ہے کہ پھر کسی شخص نے جتنا چندہ دینا ہوتا ہے سال کے آخر تک اس سے زیادہ دیتا ہے۔پیچھے نہیں رہا کرتا۔تو نظام جماعت میں جو چندہ وصول کرنے کا نظام ہے اس کو متحکم کرنا بہت ہی اہم کام ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ نظام جس کا تعلق اخلاص کا معیار بڑھانے سے ہے وہ ساتھ ساتھ مستعد ہو کر قدم بقدم چلے بلکہ آگے بڑھ کر چلے اور اگر اخلاص کا معیار بڑھانے والا نظام یعنی تعلیم و تربیت کا نظام اور نمازوں پر قائم کرنے کا نظام جو تربیت کا ہی حصہ ہے اور خدا سے تعلق بڑھانے کا نظام، یہ نظام اگر پوری طرح مستعدی کے ساتھ عمل پیرا ہو تو پھر چندہ وصول کرنے والے نظام میں کمزوریاں بھی رہ جائیں تو اتنا نقصان نہیں ہوا کرتا۔اخلاص بڑھ جائے تو جیسے بچے کے لئے ماں کا دودھ بعض دفعہ اچھلتا ہے اور چھاتیوں سے باہر آجاتا ہے حالانکہ بچے نے طلب بھی نہیں کی ہوتی بلکہ یہی کیفیت اخلاص کی ہے۔اگر خدا سے محبت بڑھ جائے ، انسان نمازوں پر قائم ہو جائے جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے پیار کا تعلق قائم ہو جائے تو پھر انسان از خود بغیر تحریک کے بھی ادا کرتا ہے تو یہ دونوں چیزیں ہیں جن کو جماعت کے مالی نظام کو متحکم کرنے کے لئے ہمیں ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہو گا اور ایک تیسری چیز جس کا اخلاص سے بھی تعلق ہے لیکن اس کو عموماً اخلاص کے دائرے میں شامل نہیں کیا جا تاوہ دیانتداری ہے۔دیانت اس سارے نظام کو مضبوطی بخشتی ہے۔اگر دیانت نہ ہو تو اخلاص بھی ہو اور مالی نظام بھی مضبوط ہوتب بھی لوگ چندہ دینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔عالم اسلام کی آج جو بہت بڑی بدنصیبی ہے جس میں خدا تعالیٰ نے ہمیں مستثنیٰ رکھا ہوا ہے اس میں ایک یہ مابہ الامتیاز ہے کہ باقی عالم اسلام کو وہ دیانت نصیب نہیں ہے اور ان میں باوجود اس کے کہ بہت سے لوگ ہیں جو قربانی کرنے کی تمنا رکھتے ہیں اور بے شمار روپیہ بھی ان کے پاس ہے وہ اس وجہ سے نہیں دیتے کہ ان کو پتا ہے جو دیں گے کھا جائیں گے اور جب اعتماد نہ رہے کہ جس مقصد کے لئے خرچ کیا جارہا ہے اس مقصد کو پہنچے گا تو دل قربانی کے لئے کھلتا نہیں ہے تو جماعت احمدیہ کی کامیابی کا راز اور نظام جماعت کی استقامت کا جو