خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 431
خطبات طاہر جلدا 431 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء چھلکے کے ساتھ بدن کا ایک تعلق ہوتا ہے۔جب تک وہ زخم شفاء نہ پا جائے وہ چھلکا علیحدہ نہیں کیا جاسکتا، علیحدہ کرنے کی کوشش کریں گے تو شدید تکلیف بھی ہوگی اور فائدہ بھی کچھ نہیں ہوگا کیونکہ بدن کا وہ حصہ علیحدگی کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔جو بیمار حصہ ہے اس کی بیماری کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اس چھلکے کی ضرورت ہے اس کے بغیر وہ رہ ہی نہیں سکتا اور صحت مند بدن کا ایک بیرونی چھلکے پر انحصار یہی ایک گناہ ہے اور یہی بیماری ہے پس بدن کا بیمار حصہ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا شفاء نہ پا جائے اور اس چھلکے کی ضرورت سے آزاد نہ ہو جائے اس وقت تک اس کے چھلکے کا رہنالازم ہے اس کو زبردستی کاٹ کر پھینکیں گے تو بے فائدہ ہوگا۔شفاء پانے کا جو یہ مضمون ہے اسے قرآن کریم نے بہت کھول کر بیان فرمایا کہ بی نتیں کرو تو پھر تم رفتہ رفتہ شفاء پاؤ گے، ہم نے دنیا میں دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کے چھلکے خود بخود اترتے ہیں کیونکہ وہ ان کو چھیڑتے نہیں ہیں اور ان کے بدن کو کلیہ یہ موقع میسر آتا ہے کہ غیر کی دخل اندازی کے بغیر وہ آہستہ آہستہ صحت پاتے چلے جاتے ہیں۔پس وہ بیمار حصے جب صحت پا جاتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس چھلکے کی ضرورت ہی کوئی نہیں تھی۔ذراسی انگلی لگی کپڑ اسر کا یا تو ساتھ ہی وہ چھلکا اتر کر نیچے گر جاتا ہے اور آپ کو کبھی احساس بھی نہیں ہوا کہ اس کے نتیجہ میں آپ کو کوئی نقصان ہوا ہے لیکن اس کے بعد کچھ کھلی رہتی ہے اور وہ جو کھجلی ہے وہ پھر بیماری کو دعوت دینے کا ذریعہ بن جایا کرتی ہے۔جب گناہوں سے انسان اپنا تعلق تو ڑتا ہے تو شفاء کی ایک منزل تو وہ ہے کہ چھلکا اتر جاتا ہے۔تبتل کا ایک مقام حاصل ہو گیا لیکن جب تک کھجلی باقی ہے پورا تبثل نہیں ہو سکتا۔کھجلی کے نتیجہ میں بندر مثلاً بار بار اس صحت والے حصے کو کھجاتے ہیں اور زخم بنا لیتے ہیں۔اسی طرح بچوں کے متعلق آتا ہے کہ بندر اور بچے دونوں ہی اپنے زخم کو صحت پانے کے بعد پھر کھجا کھجا کر دوبارہ بیمار کر لیتے ہیں۔اس لئے ان کے متعلق خاص احتیاط کرنی پڑتی ہے۔انسانوں میں سے بھی ایسے ہوتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ بڑی محنت کر کے ایک گناہ سے تعلق توڑا اور تبتل اختیار کیا، گناہ کا چھلکا اُتر گیا اور کھجلی باقی رہ گئی اور کھجلی نے پھر آخر چھیلنے پر مجبور کر دیا اور پھر وہی چھلکا اور پھر وہی سلسلہ۔تو بجائے اس کے کہ ایک زخم کے بعد دوسر از خم مندمل ہو ایک ہی زخم کے ساتھ جھگڑے ساری عمر کے جھگڑے بن جاتے ہیں اور عام دنیا میں اکثر آدمی ایسے ہیں کہ ان کا بدن چھلنی ہوتا ہے۔آپ