خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 843 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 843

خطبات طاہر جلد ۱۰ 843 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء صاحب نے جن کی کوٹھی پر آپ قیام فرمارہے تھے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب یہاں تشریف لائے تھے تو ایک ہی دن میں ۱۶۰۰ بیعتیں ہوئی تھیں لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ آہستہ آہستہ یا کہیں اور چلے گئے یا ضائع ہو گئے اور دشمن کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔لیکن اب ۶۰۰ بھی نہیں رہے اور وہ ایک دن کی بیعتیں تھیں۔تو حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے ذہن پر ان تاریخی واقعات کا بھی اثر تھا اور امر واقعہ یہ ہے کہ لوگ جو پیچھے ہٹے ہیں وہ کلیہ پیچھے نہیں ہٹا کرتے ان سے جب بھی تذکرہ ہو اور ذرا سا انسان کریدے تو معلوم ہوتا کہ ان کے دل میں احمدیت کی صداقت موجود ہے اور وہ دشمن کے دباؤ کی وجہ سے گمنام سے ہو گئے۔تو ایک تخمینہ لگانے والا تاریخی واقعات کو بھی اپنے تخمینے میں شامل کر سکتا ہے اور یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ ایک علاقے میں جہاں دیہات کے دیہات اور جہاں بہت بڑے بڑے بارسوخ آدمی چند دنوں کے اندراندر احمدی ہوئے تھے اس لئے اس علاقہ میں لازماً ۱۰ ۲۰ ہزار کی تعداد میں لوگ احمدی ہوں گے یہ واقعہ ۱۰۰ سال پہلے کا ہے تو اندازہ کریں کہ رفتہ رفتہ ان لوگوں میں سے ان کے بچے بھی اگر احمدی ہوں تو تعدا کتنی بن جاتی ہے۔پھر مجھے ایک تجربہ صوبہ سرحد کے دورے کا ہوا۔اس سے بھی مجھے اندازہ ہوا کہ کیوں حضرت خلیفۃ اصبح الثالث کے ذہن پر تعداد کا بہت زیادہ اثر ہے۔میں جب کو ہاٹ گیا تو کوہاٹ سے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا وہ سڑک جو کوہاٹ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جاتی ہے۔اس پر بعض جگہ مجھے ایسے بورڈ آویزاں دکھائی دیئے جس سے پتہ لگتا ہے کہ احمدی گاؤں ہے اور احمدی بستی وغیرہ اس قسم کے نام تھے جب میں نے دریافت کیا تو ایک مقامی دوست نے بتایا کہ واقعہ یہ بستیاں احمدی تھیں اور محض نام کی بات نہیں ہے چنانچہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سوال وجواب کی ایک بہت بڑی مجلس منعقد ہوئی جس میں اس علاقے کے اکثر معززین تشریف لائے ہوئے تھے۔دوران گفتگو رفته رفتہ لوگ کھلنے شروع ہوئے اور جب میں نے یہ محسوس کیا کہ ان کے دلوں پر بہت گہرا اثر ہے تو بعض سے میں نے بات چھیڑ دی کہ یہ بات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اصل قصہ کیا ہے؟ تو ان میں سے ایک صاحب نے اٹھ کر بتایا کہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کے زیر اثر یہ سارا علاقہ تھا اور اس وقت یعنی آپ کی شہادت کے وقت تقریباً سب کے سب احمدی ہو گئے تھے اور اس نے بتایا کہ میرا گاؤں فلاں پہاڑ کی چوٹی پر ہے جس رستے سے آپ گزر کر آئے ہیں اسی رستے