خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 802

خطبات طاہر جلد ۱۰ 802 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء دنیا مجھ پر لعنتیں ڈالے مگر میں خدا کی لعنت کو قبول نہیں کر سکتا اور جہاں تک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقدس نظام کا تعلق ہے اس کی حفاظت میں ہمیشہ سینہ سپر رہوں گا۔آپ بھی میرے لئے دعا کریں اور اپنے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اجتماعی رنگ میں اس عہد کو تا دم آخر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک بات جس کا میں نے کہا تھا میں بعد میں ذکر کروں گا وہ میرے ذہن سے اتر گئی تھی۔یہ جو فرضی کہانی ہے کہ ۴ لاکھ کے قریب جماعت سویڈن کا چندہ ہے اور اس میں سے ایک لاکھ بھی مالمو پر خرچ نہیں ہوتا۔اس کا Break Down اب میں آپ کو بتا دیتا ہوں تا کہ یہ بتاؤں کہ ان میں سے کسی نے اتنی بھی عقل نہیں کی کہ دیکھ تو لیں کہ واقعاتی طور پر حقائق کیا ہیں۔اعداد و شمار کیا ہیں۔سویڈن کی جماعت کا چندہ گزشتہ سال سے گر رہا ہے۔یہ بھی میرا خیال ہے ان باتوں کی ہی نحوست ہے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور ۴ لاکھ تک کبھی بھی نہیں پہنچا۔سارے شامل کر کے بھی نہیں پہنچا۔جماعت کے خرچ کو چلانے کے لئے مرکز اپنے حصہ سے جو حصہ مرکز کہلاتا ہے۔جس کا تعلق خالصہ مرکز کے فیصلے پر ہے جس جگہ چاہے خرچ کرے۔اس ملک میں کرے۔دنیا میں کہیں اور کرے اور اس ملک کا تعلق نہیں رہتا۔اسے اگر شامل بھی کر دیا جائے یعنی ابھی نکالا نہ جائے تو کل چندہ جو جماعت مالمو نے ادا کیا تھا وہ سال ۹۰-۹۱ء میں ایک لاکھ ۶۱ ہزار ۴۰۸ کرونہ تھے۔اس میں سے حصہ مرکز جس کا مقامی طور پر کوئی حق نہیں ہوتا۔اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ ۶۰ ہزار ۶۴۴ ہے۔گویا انہوں نے لازمی چندہ جات تحریک جدید، وقف جدید وغیرہ میں جو کل ادا کیا وہ ایک لاکھ ۷۶۴ کرونہ تھا۔اب اس کو یا درکھ لیجئے۔سارے سال میں وہ چندہ اگر ۱۰۰ فیصدی ان کی جماعت پر خرچ کیا جائے تو ایک لاکھ ۶۴ے بنتا ہے۔اس کے مقابل پر سال ۹۰-۹۱ ء میں مالمو پر خرچ ایک لاکھ ۳۸ ہزار ۳۰۳ تھا اور اس کے علاوہ مرمت مشن کے لئے ۴۰ ہزار کرونزا الگ مرکز نے دیا گویا ایک لاکھ ۷۸ ہزار ۳۰۳ ان پر خرچ ہوا۔ان کی طرف سے کل چندہ ایک لاکھ 41 ہزار ادا کیا گیا۔حصہ مرکز نکالا جائے جیسا کہ ہر جگہ سے نکالا جاتا ہے تو پیچھے ایک لاکھ ۷۶۴ ان کا حصہ ہے۔ایک لاکھ ۷۸ ہزار ان پر خرچ ہو رہا ہے اور ابھی مانگ رہے ہیں کہ باقی ہمارا واپس کرو۔وہ کونسا باقی ہے؟ کہاں سے آیا یہ تو ویسی بات ہے جیسے ایک اندھے کے ساتھ مل کر کسی نے حلوہ کھایا تھا تو تھوڑی دیر کے بعد اند ھے کو خیال آیا کہ یہ آنکھوں