خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 705 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 705

خطبات طاہر جلد ۱۰ 705 خطبه جمعه ۳۰/اگست ۱۹۹۱ء ہوئے یہ ان پر گویا میری طرف سے براہ راست امیر سے اوپر ایک نگران بن کر وہاں بیٹھے رہیں۔ذیلی تنظیموں کے صدر ان کا مبلغ انچارج کے ساتھ گہرا رابطہ ہونا چاہئے ،صدر صاحبان حضور انور کی خدمت میں جور پورٹیں بھجوائیں ان کی نقول خاکسار کو بھی بھجوائیں۔خاکسار کو جماعت میں تبلیغی اور تربیتی کاموں کو تیز کرنے کے سلسلہ میں جو معلومات درکار ہونگی محترم امیر صاحب اور مجلس عاملہ کے متعلقہ شعبہ کا فرض ہوگا کہ خاکسار کو مہیا کرے۔یعنی عملاً مطالبہ یہ ہے کہ میرا نام امیر نہ رکھا جائے مگر امیر اور مجلس عاملہ سے بالا ایک حیثیت مجھے وہاں دی جائے اس کے بغیر میں صحیح کام نہیں کر سکوں گا۔میں نے ان کو جو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ نائب امیر جماعت مغربی جرمنی ہیں اور مجلس عاملہ میں آپ کو یہی حیثیت حاصل ہو گی آپ کی ذمہ داری ہے کہ محترم امیر صاحب کو ہر معاملہ میں مناسب مشورہ دیا کریں اور امارت کے وقار کو جماعت میں بڑھانے کے لئے مد ومعاون ثابت ہوں اگر وہ آپ کا مشورہ قبول نہ کریں تو شرح صدر کے ساتھ امیر کے سامنے سرتسلیم خم کریں لیکن اگر آپ امیر کے فیصلہ کو جماعتی مفاد کے خلاف سمجھیں تو امیر کی معرفت اپنا اختلافی نوٹ مجھے بھجوائیں۔اس کے علاوہ جتنے اختیارات امیر آپ کو دینا چاہے دستور کی حدود کے اندر رہتے ہوئے یہ اس کا کام ہے۔امیر اگر آپ پر اعتما در کھتا ہے تو جتنا چاہے آپ کو اختیار دے۔میں خود کوئی اختیار معین نہیں کروں گا ورنہ نظام جماعت چلانے میں دو غلا پن اور تضاد پیدا ہو جائے گا۔اس کے بعد اور بہت سی باتیں ان کو سمجھا ئیں اور آخر پر لکھا کہ مندرجہ بالا تمام وہ باتیں ہیں جن کے متعلق مجھے آپ پر حسن ظن تھا کہ پہلے اس کا شعور رکھتے ہوں گے مگر آپ کے لمبے سلسلہ سوالات نے میرے حسن ظن کو ٹھوکر لگائی ہے اور بڑی وضاحت کے ساتھ میں نے ایک اور موقعہ پران سے کہا کہ مجھے فتنے کی بو آرہی ہے۔آپ تقویٰ سے کام لیں اور امیر کے سامنے پوری طرح سرا طاعت خم کریں ورنہ آپ خدمت سے محروم ہو جائیں گے۔اور ایک موقع پر ایک انگریزی خط میں ان کولکھا کہ میرے پاس دعا کے سوا چارہ نہیں رہا کہ یہ دعا کروں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو Total disintegration سے بچائے۔اس پر ان کی طرف سے مجھے اطمینان کا خط ملا۔یعنی اپنی طرف سے مطمئن رہیں کہ میں بات سمجھ گیا ہوں۔میری طرف سے آئندہ اس معاملہ میں کبھی آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔