خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 617

خطبات طاہر جلد ۱۰ 617 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء سبحان ربی العظيم، سبحان ربی الاعلی اور التحیات اللہ کا عظیم مفہوم اور عرفان ( خطبه جمعه فرموده ۲۶ / جولائی ۱۹۹۱ء بمقام اسلام آباد یو کے ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔کچھ عرصہ سے نماز سے متعلق خطبات کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سلسلہ اس غرض سے شروع ہوا تھا کہ وہ احباب جماعت جو نماز سے محبت تو رکھتے ہیں لیکن استفادے کی طاقت نہیں رکھتے ان کی مدد کی جائے اور انہیں سمجھایا جائے کہ پانچ وقت نماز سے کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور کس طرح نماز سے محبت میں مزا حاصل کیا جا سکتا ہے۔حقیقی محبت وہی ہے جس میں مزا ہو ورنہ محبت کی دو قسمیں ہیں۔ایک عقیدے کی محبت ہوا کرتی ہے۔اس محبت کے نتیجہ میں انسان اپنے آپ کو بعض اعمال پر مجبور کر لیتا ہے لیکن ان اعمال میں لذت حقیقی محبت سے پیدا ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں ایک عرصہ تک سورہ فاتحہ کے مضامین پر خطبات ہوتے رہے۔اب میں بقیہ نماز سے متعلق کچھ عرض کروں گا۔پہلی قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ حرکت کے وقت ہمیں سکھایا گیا ہے کہ اللہ اکبر کا اقرار کریں۔سوائے دو حرکات کے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت اور سلام پھیر تے وقت۔ان کا جب موقعہ آئے گا تو ان پر وہاں گفتگو ہوگی۔اللہ اکبر حرکت کے ساتھ کیا تعلق رکھتا ہے۔دراصل انسان زندگی میں ذہنی اور جسمانی جتنی بھی حرکات ایک پہلو سے دوسرے پہلو کی طرف، ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف کرتا ہے، اس کے ہمیشہ دو محرکات ہوا کرتے ہیں۔ایک خوف اور ایک