خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 615
خطبات طاہر جلد ۱۰ 615 خطبہ جمعہ ۱۹ار جولائی ۱۹۹۱ء کہ تم لوگ اس وقت سے پہلے پہلے خرچ کرو جبکہ تمہارے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ اے خدا!! ہمیں مہلت دے دے کہ کچھ اور نیک کام کر لیں۔فرمایا وہ لوگ جنہوں نے نیک راہوں پر خرچ کیا ہوگا وہ متقی ہیں ان کے اوپر یہ وقت نہیں آئے گا۔پس اگر آپ آج کی زندگی میں جو کچھ خدا نے آپ کو صلاحیتیں عطا کی ہیں یا جو کچھ مال اور دولت دیئے ہیں خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو آپ کو پُر امن موت کی بشارت ہے آپ کو وہ موت نصیب نہیں ہوگی جس میں حسرت کے ساتھ انسان یہ کہے گا کاش مجھے اور مہلت ملتی تو میں خدا کے لئے کچھ کر لیتا۔پس اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ اسی حال پر قائم رکھے اور ایسی موت نصیب فرمائے جس موت کے متعلق اللہ تعالیٰ خود رضا کی نظریں ڈال رہا ہو۔وہ نفس مطمئنہ ہمیں عطا کرے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب اس کا میری طرف لوٹ آنے کا وقت آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارجِعَى إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (انج: ۲۹،۲۸) اے نفس مطمئنہ ، اے میرے بندے اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ایسی حالت میں کہ تو بھی راضی ہے اور میں بھی تجھ سے راضی ہوں، دونوں راضی ہیں۔تو راضی بھی ہے اور مرضیہ بھی ہے یعنی میری رضا کو پانے والا ہے۔فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي پس آ اور میرے بندوں میں داخل ہو جا۔وَادْخُلِي جَنَّتِی اور میری جنت میں داخل ہو جا۔یعنی وہ جنت جو خاص میرے بندوں کیلئے بنائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں داخل فرمائے جن کے ایسے پیارے اور نیک انجام کی خبر دی گئی ہے۔آمین۔