خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 563
خطبات طاہر جلد ۱۰ 563 خطبہ جمعہ ۵ر جولائی ۱۹۹۱ء سوائے اس کے کہ اللہ اس بلا کو ٹالنے کا فیصلہ فرمالے۔اِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ بہت حکمتوں والا اور بہت جاننے والا ہے۔ان آیات میں بظاہر دعا پیش نہیں کی گئی مگر ایک ایسی حالت بیان کی گئی ہے جس کے نتیجے میں اپنی حالت خدا کے حضور پیش کرنے والے رحم کی تمنا کرتے ہیں۔یہ دعا جو عذاب کے سامنے حاضر ہونے کے بعد بعض لوگ کریں گے نسبتا زیادہ مطالعہ کی محتاج ہے تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہاں جن سے کیا مراد ہے انس سے کیا مراد ہے اور کیا بات پیش کی جارہی ہے۔پہلی بات تو یہ ہے فرمایا مَعْشَرَ الْجِنِ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ اے جنو تم نے لوگوں میں سے، عوام الناس میں سے اکثر سے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر جن وہ مخلوق ہے جس کے متعلق عوام الناس میں مشہور ہے اور خاص طور پر ملاں لوگ مشہور کرتے رہتے ہیں کہ یہ انسانوں سے ہٹ کر ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی۔اس کے متعلق کب انسان کے سامنے یہ بات آئی ہے، کب انسانی تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ ان فرضی جنوں نے بھاری تعداد میں انسانوں سے فائدہ اٹھایا ہو اور ان کو اپنا غلام بنالیا ہو۔کوئی اتفاق سے کہیں کوئی ایسا مریض ملتا ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کو جن چڑھ گیا اور اس نے اس کو قابو کر لیا۔پس یہاں لازماً جن سے مراد کچھ اور ہے اور وہی معنی ہیں جو جماعت احمدیہ کی تفاسیر میں ہمیں ملتے ہیں یعنی جن سے مراد بڑے لوگ ہیں اور جب خدا جن اور انس کا ذکر ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر فرماتا ہے تو اس سے ہمیشہ مراد Capitalist اور Proletarlat یعنی عوام الناس اور بورثر دالوگ ہیں ایک دوسرے کے مقابل پر یعنی بوژوا کے مقابل پرProletarlat جو بڑی بڑی استحصالی طاقتیں ہیں مثلاً مغربی طاقتیں Proletariat ان کے مقابل پر اشترا کی طاقتیں اور بڑے آدمیوں کے مقابل پر چھوٹے غریب بے کس عوام۔یہ مقابلہ ہمیشہ کیا جاتا ہے جن اور انس کے ذریعہ اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ لفظ استحصال کا ذکر یہاں خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ہمیشہ اشتراکیت کی طرف سے یہی آواز اٹھائی گئی ہے کہ مغربی Capitalist طاقتیں استحصالی طاقتیں ہیں اور سائنٹفک سوشلزم کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ بعض لوگ بعض غرباء کا استحصال کرتے ہیں اور اس