خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 538

خطبات طاہر جلد ۱۰ 538 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء ہے۔(الانبیاء: ۱۰۸) وہ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہے تو میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ آپ تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کو پانے کے دعویدار ہیں۔پھر یہ جغرافیائی تفریقیں کیسی ؟ پھر یہ خیال کیسا کہ فلاں شخص کو ہم سے بہتر ہونا چاہئے تھا کیوں کسی کو ہم سے بہتر ہونا چاہیئے ؟ وہی بہتر ہے جو خدا کے نزدیک بہتر ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات : ۱۴) رنگ ونسل کی تمیز ہمیشہ کے لئے مٹادی گئی ہے۔تم میں سے وہی معزز ہے جو خدا کے نزدیک معزز ہے۔اس لئے میں ان کو یہی کہتا رہا کہ آپ ان لوگوں پر رحم کریں جو پاکستان سے آتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ وہ احمدیت کے سفیر بن کر آئے ہیں لیکن وہ احمدیت کی بجائے بعض اور بدیوں کے سفیر بن کر جاتے ہیں۔آپ محمد مصطفی ﷺ کے سفیر بن کر ان کو بچانے کی کوشش کریں نہ کہ ان کی وجہ سے خود ٹھوکر کھا جائیں۔پس جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ٹھو کر کھاتے ہیں ان کا یہ عذر قبول نہیں ہوگا اور قرآن کریم یہ بات کھول کر بیان فرما چکا ہے کہ جب قیامت کے دن بعض لوگ جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے تو وہ یہ عذر پیش کریں گے کہ اے خدا ان بڑے لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا ان کی وجہ سے ہم نے ٹھو کر کھائی اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم دونوں کیلئے جہنم ہے ٹھوکر میں مبتلا کرنے والوں کے لئے بھی اور ان کے لئے بھی جنہوں نے بعض لوگوں کے بدنمونے سے اثر قبول کر کے خود اپنی گمراہی کے سامان کئے۔پس قرآن کریم کی تعلیم دوطرفہ ہے اور مکمل ہے اور متوازن ہے لیکن یہ بیان کرنے کے باوجود ان احمدیوں کی ذمہ داری کو میں کم نہیں سمجھتا جنہوں نے لمبے عرصے تک پاکستان یا ہندوستان میں تربیت پائی۔بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جو صحابہ کی اولاد ہیں ، بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جنہوں نے صحابہ کو خود دیکھا ہوا ہے اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے صحابہ کو دیکھے ہوئے لوگوں سے تربیت پائی ہے۔وہ جب باقی دنیا میں جاتے ہیں تو طبعا انسانی فطرت ہے خواہ یہ دلیل مضبوط ہو یا نہ ہو کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ احمدیت کے سفیر آرہے ہیں اور ان کے نمونے پر چل کر ہمیں نجات ملے گی جب وہ غلط نمونے دیکھتے ہیں تو لازماً ان کو صدمہ پہنچتا ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انعام یافتہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو تقویت دی جاتی ہے وہ ٹھو کر نہیں کھاتے لیکن کمزور پھر بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں اس لئے یہ دعا بہت ہی ضروری ہے۔جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے صحابہ نے کی کہ ربنا لا