خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 423
خطبات طاہر جلد ۱۰ 423 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۹۱ء ہوان کے خلاف بھی ہمارا رب مددگار ہوگا اور مددگار ہے۔پس اس وسیع تر معنے میں یہ دعا کرنی چاہئے۔اس کے بعد دوسری دعا سورۃ المومنون کی آیت ۲۷ میں ہے۔یہ حضرت نوح کی دعا ہے اس سے پہلے کی آیات میں یہ ذکر ہے کہ حضرت نوح کی قوم کے سرداروں نے آپ کے متعلق طرح طرح کی باتیں بنائیں اور کہا کہ تم محض اپنی فضیلت چاہتے ہو اور خدا کا پیغام ہم تک پہنچانا محض ایک بہانہ ہے اور پھر یہ کہا کہ اگر خدا چاہتا تو اپنی طرف سے فرشتے نازل فرماتا۔کجا یہ کہ تمہیں ہم پر پیغمبر بنا کر بھجوا تا جو محض ایک انسان ہو، اس سے زیادہ تمہیں کوئی حیثیت (حاصل ) نہیں اور پھر یہ بھی کہا کہ انسان ہی نہیں ایک مجنون انسان ہو۔تمہیں تو جنون ہو چکا ہے، دیوانے ہو گئے ہو۔پس ہم اس بدانجام کا انتظار کر رہے ہیں جو تمہیں پہنچے گا اس پر حضرت نوح نے یہ دعا کی کہ۔قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ (المومنون: ۲۷) اے میرے رب ! میری نصرت فرما، بِمَا كَذَّبُونِ بِمَا كَذَّبُونِ کا ایک ترجمہ یہ ہے اور یہی حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کیا ہے کہ بسبب اس کے جو انہوں نے مجھے جھٹلا دیا اور ایک اور ترجمہ جو اس سیاق و سباق میں برمحل بیٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ بِمَا كَذَّبُونِ میری جن باتوں میں یہ تکذیب کر رہے ہیں ویسی ہی مقابل کی نصرت عطا فرما یعنی جن جن باتوں میں یہ میری تکذیب کرتے ہیں ایسی نصرت فرما کہ ان سب باتوں میں یہ خود جھوٹے ثابت ہو جائیں۔اس دعا کی قبولیت کا ذ کر اگلی آیت میں ملتا ہے اور وہ انہی معنوں میں ہے جن معنوں میں میں یہ ترجمہ کر رہا ہوں۔فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا (المومنون: ۲۸) پس اس دعا کے بعد ہم نے نوح پر وحی نازل فرمائی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ، ہمارے دیکھتے میں ایک کشتی بنا اور اس طرح کشتی بنا جس طرح ہم تم پر وحی نازل فرماتے ہیں۔فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا اور جب ہمارا حکم آگیا وَفَارَ التَّنُّورُ اور چشموں نے خوب جوش مارنا شروع کیا فَاسْلُكُ فِيهَا مِن مِن كُل زَوْجَيْنِ تو اس وقت ہر قسم کے جاندار جو ضروری ہیں ان کے جوڑے لے لینا اور اپنے اہل کو ساتھ لے لینا سوائے اس کے جن کے خلاف ہمارا فیصلہ گزر چکا ہو۔وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارہ میں مجھے خطاب نہ کرنا یعنی میرے سامنے دعا نہ کرنا۔إِنَّهُمْ مُّغْرَقُونَ وہ یقینا غرق کئے جائیں گے۔پس دراصل انہوں نے حضرت نوح کو نہ صرف جھوٹا اور ریاء کار بتایا بلکہ قوم کا حضرت نوح