خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 30

خطبات طاہر جلد ۱۰ 30 50 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۹۱ء دھوکے کے ساتھ پیش کرنے کے یہ سارے ذرائع ہیں جو اختیار کئے جارہے ہیں۔اب پھر سوال اٹھتا ہے کہ صدر صدام حسین کیوں اس سیدھی سادھی کھلی ہوئی حقیقت کو جان نہیں سکتے ، پہچان نہیں رہے اور کیوں مصر ہیں کہ نہیں ، ان شرائط پر میں کو بیت کو خالی کرنے کیلئے تیار نہیں۔میں اور باتوں کے علاوہ یہ سمجھتا ہوں کہ صرف کو یت کو خالی کرنا مقصود نہیں ہے۔یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہر حالت میں عراق کو نہتہ کر دیا جائے گا اور بے طاقت بنا دیا جائے گا اور کویت سے نکلنا پہلا قدم ہے۔اسی لئے اس کے بعد صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم عراق پر حملہ نہیں کریں گے۔یہ ساتھ نہیں کہتے کہ ہم عالمی بائیکاٹ ختم کر دیں گے۔اقتصادی بائیکاٹ ختم کر دیں گے۔یہ نہیں کہتے کہ ہم مزید دباؤ ڈال کر تمہارے کیمیائی کارخانے جو جنگوں میں ہلاکت خیز کیمیاوی مادے بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان کو برباد نہیں کریں گے یا ان میں دخل نہیں دیں گے۔یہ نہیں کہتے کہ ہم تمہاری ایٹمی توانائی کے مراکز کو ختم کرنے کے لئے تم سے مزید مطالبے نہیں کریں گے اور مزید دباؤ نہیں ڈالیں گے لیکن یہ نہ کہنے کے باوجود دبی زبان سے یہ اظہار جگہ جگہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کچھ کرنا ضرور ہے اور عراق خوب اچھی طرح سمجھتا ہے۔عراق جانتا ہے کہ محض کو یت کا مسئلہ نہیں ہے۔اگر میں کو یت خالی بھی کردوں تو جن مقاصد کی خاطر یہ کویت کی حمایت کر رہے ہیں وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکتے جب تک مجھے بالکل ناطاقت کر کے نہ چھوڑا جائے۔پس عملا صدر صدام کے پاس دورا ہیں نہیں بلکہ ایک ہی راہ ہے اور وہ راہ یہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنے بدا را دے پورے کرنے ہی ہیں تو پھر اس حالت میں مرا جائے کہ مرتے مرتے ان کو بھی اتنا نقصان پہنچا دیا جائے کہ ہمیشہ کے لئے لولوں لنگڑوں کی طرح رہیں اور پھر پہلے جیسی طاقت اور پہلے جیسا تکبر باقی نہ رہے۔پس جہاں تک میں سمجھتا ہوں صدر صدام حسین اس وجہ سے بضد ہیں کہ تمہاری شرائط پر میں کو یت خالی نہیں کروں گا۔ہو سکتا ہے کہ اب Perez De Cuellar اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جو وہاں جار ہے ہیں ان کے ساتھ گفت و شنید کے دوران کچھ باتیں کھل کر سامنے آئیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر Perez De Cuellar کی طرف سے ایسی گفت وشنید کا آغاز ہو جائے جس کے نتیجے میں بالآخر عراق کو یہ تحفظ دیا جائے اور یونائیٹڈ نیشنز کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ اگر تم کو میت کو خالی کر دو تو اول تمام عرب مسئلے کو یکجائی صورت میں دیکھا جائے گا