خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 322
خطبات طاہر جلد ۱۰ 322 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء فِي الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيْتَ مِنَ الْحَقِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ( آل عمران: ۲۷، ۲۸) اے محمد ! تو مجھ سے یوں مخاطب ہوا کر مجھ سے یہ دعا کیا کر کہ اے ہمارے اللہ ! تو ملک کا مالک ہے۔یعنی ہر قسم کی ملکیت جس کا تصور کیا جا سکتا ہے وہ تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاء اور دنیا کی بادشاہتیں بھی اور آخرت کی بادشاہتیں بھی تیری طرف سے عطا ہوتی ہیں جس کو جو چاہے جس طرح چاہے تو عطا فرمادے خواہ وہ اس دنیا کا ملک ہو یا آخرت کا ملک ہو۔وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ لیکن تو چھینے کی بھی طاقت رکھتا ہے جب چاہے کسی کو نا اہل قرار دے کر اس سے اپنا عطا کردہ ملک واپس لے لے۔وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ تو جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسے ذلیل ہونے دیتا ہے لیکن بِيَدِكَ الْخَيْرُ تیرے ہاتھ میں خیر ہے۔بھلائی ہے۔تیری طرف سے کسی کو ذلت نہیں پہنچتی۔تو ذلیل ہونے دیتا ہے۔یعنی اگر وہ خود ذلیل ہونا چاہتا ہے تو بعض دفعہ تو فیصلہ فرمالیتا ہے کہ اچھا پھر ہم تجھے ذلیل ہونے دیں گے اور پھر وہ ذلیل اور رسوا ہو جاتا ہے لیکن جہاں تک تیرے ہاتھ کا تعلق ہے یہ ہاتھ خیر کا ہاتھ ہے یہ برائی کا ہاتھ نہیں ہے۔اِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اور تو ہر چیز پر قادر ہے جو تو چاہتا ہے اور چونکہ تو بھلائی چاہتا ہے اس لئے ہم تجھ سے بھلائی ہی کی توقع رکھتے ہیں۔تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ زمانے ادلتے بدلتے رہتے ہیں راتیں دنوں میں داخل ہو جاتی ہیں اور دنوں کو تو راتوں میں داخل فرما دیتا ہے جب چاہے راتوں کو دنوں میں داخل فرماتا ہے۔دنوں کو راتوں میں داخل فرما دیتا ہے۔وَتُخْرِجُ الْحَى مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيْتَ مِنَ الْحَقِّ اور اسی طرح تو زندوں کو مردوں میں داخل کر دیتا ہے اور مردوں کو زندوں میں داخل فرما دیتا ہے۔پس ہر آن تیر افضل ہی ہے جو ہمیں ہمیشہ صحیح رستے پر قائم رکھے اور مردوں سے زندوں میں داخل ہونے والے ہوں نہ کہ زندوں سے مردوں میں داخل ہونے والے۔اسی طرح ہمارے زمانے راتوں سے روشنیوں میں تبدیل ہونے والے ہوں ، روشنیوں سے راتوں میں تبدیل ہونے والے نہ ہوں۔وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ اور تو جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے اسے رزق عطا فرماتا ہے۔