خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 236

خطبات طاہر جلد ۱۰ 236 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء ہے وہ کسی ایک شخص کے لئے نہیں ہو سکتی ، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مختلف زمانوں میں پھیلے ہوئے علوم میں محنتیں کرنے والے بے شمار انسان ہیں جنہوں نے اس کو بنانے میں حصہ لیا ہے اور اس وقت اس دنیا میں بھی جس کا رخانے میں وہ بنا، ٹیلی ویژن کی ساری ضرورتیں اس کارخانے میں پوری نہیں ہوئیں بلکہ دنیا کے مختلف کارخانوں سے کچھ پرزے حاصل کئے گئے ، کچھ ٹیکنالوجی عاریۂ لی گئی ، کوئی اور مدد حاصل کی گئی تو اس کی تعریف ٹیلی ویژن میں تو مجتمع ہوئی لیکن بنانے والوں کے لحاظ سے منتشر ہوگئی اور بے شمار انسانوں کے حصے میں آئی اور مختلف زمانوں کے حصے میں آئی۔خدا تعالیٰ کے متعلق جب ہم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہیں تو اس کی تخلیق کی ہر صنعت کی ہر خوبی بہت سے علوم کا تقاضا کر رہی ہے، بہت سی صفات کا تقاضا کر رہی ہے اور خدا کی صنعت پر واقعہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ واقعہ ہر تعریف کے لائق وہ ذات ہے جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔پس صرف اس وقت کی تعریف نہیں بلکہ ان تمام زمانوں کی تعریف ہے جن زمانوں کی طرف العلَمِینَ کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اور اس تمام کائنات کے ہر ذرے میں موجود صفات کی تعریف جن کی طرف لفظ العلمین اشارے کر رہا ہے، یہ مجتمع ہو کر پھر بکھرتی نہیں بلکہ ایک ذات میں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور وہ ذات اللہ ہے تو اگر آپ صرف ایک جانور کو اپنے پیش نظر رکھ لیں اور اس کی تخلیق کے مختلف مراحل میں مختلف قسم کے جتنے علوم کی ضرورت پیش آسکتی ہے اور جتنی مختلف صفات کی ضرورت پیش آسکتی ہے کہ جن صفات کے بغیر وہ چیز بن نہیں سکتی۔اور اسی طرح ہر وہ چیز جس پر آپ نظر ڈالیں اور گہری نظر ڈالیں وہ قابل تعریف دکھائی دے تو اس کے بنانے والے کی ہر صفت قابل تعریف ہو جائے گی کیونکہ وہ وجود ان تمام صفات کی جلوہ گری کا ایک آخری مظہر ہے یعنی آخری صورت میں ظاہر ہونے والا منظر ہے جو آپ کو دکھائی دے رہا ہے۔پس خدا تعالیٰ کے لئے جب ہم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہتے ہیں تو دنیا کے ہر مشاہدے میں آپ کو خدا تعالیٰ کی ایک صفت کی بجائے بیسیوں بلکہ سینکڑوں بلکہ جتنا آپ کا علم بڑھتا چلا جائے گا اتنی ہی زیادہ صفات دکھائی دینے لگیں گی اور ہر صفت کا منع الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ نظر آئے گا۔اس مضمون پر جب میں نے غور کیا تو یوں کہنا چاہئے کہ عقل بالکل حیران و ششدر رہ گئی۔یوں لگتا تھا کہ انسان عالم حیرت میں غرق ہو گیا ہے۔کائنات کے کسی ذرے میں آپ