خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 234
خطبات طاہر جلد ۱۰ 234 خطبہ جمعہ ۱۵/ مارچ ۱۹۹۱ء والا اور غیروں کے شر سے بچانے والا اور حفاظت کرنے والا ، یہ معنی سامنے رکھیں تو انسانوں میں سے بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں اور بہت سے ایسے وجود جانوروں میں سے بھی ہیں جو اپنے اپنے دائرے میں رب کہلا سکتے ہیں۔مائیں ہیں جو اپنے بچوں کے لئے رب بن جاتی ہیں خواہ وہ انسانی مائیں ہوں یا جانوروں کی دنیا کی مائیں ہوں۔خواہ وہ ادنی زندگی سے تعلق رکھنے والی مائیں ہوں یا اعلیٰ زندگی سے تعلق رکھنے والی مائیں ہوں ان سب میں ربوبیت کا مضمون پایا جاتا ہے ،لیکن اس کے ساتھ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تمام صفات کی حامل ہیں۔پس محض ربوبیت کے نتیجے میں تمام صفات پر حاوی ہونے کا مضمون پیدا نہیں ہوتا اور زبردستی کر کے کوئی انسان کہنا چاہے کہ رب کا معنی ہے : ہر صفت کی ماں ، ہر صفت سے ماں والا تعلق رکھنے والا تو یہ درست نہیں ہوگا لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو یہ تمام جہانوں کا ایسا رب ہے جس کی ربوبیت میں تمام حمد شامل ہے اور حمد کے سوا کچھ بھی نہیں۔یعنی ربوبیت کے جتنے بھی جلوے ظاہر ہوئے ہیں ہر جلوے پر انسان کہہ سکتا ہے کہ اس جلوہ افروز ہونے والے رب میں تمام صفات حسنہ پائی جاتی ہیں اور حمد پائی جاتی ہے۔پس ایسی ربوبیت جس میں کوئی نقص نہ رہا ہو اور ایسی ربوبیت جو اپنی حمد کی وجہ سے بعض اور صفات کی متقاضی ہو جائے اس کی بے شمار مثالیں ہیں، ایک مثال دیتا ہوں۔آپ ایک ٹیلی ویژن کا سیٹ دیکھ لیں۔اس ٹیلی ویژن کے سیٹ میں آپ مختلف ممالک سے آنے والی تصویر میں بھی دیکھ سکتے ہیں اور ایک ملک میں دکھائی دینے والی تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں ، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ سیٹ کس طاقت کا ہے اور کس قسم کا ہے۔پھر اچھی تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں ، بری بھی ،شور والی بھی ، کم شور والی بھی ،شور کے ساتھ بھی اور رنگ بھی مختلف دیکھ سکتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے جب چاہیں اس ٹیلی ویژن کا تعلق جس ملک سے چاہیں فوراً کرلیں اور پھر بعض دفعہ یہ کہ گھر میں بیٹھے بیٹھے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے جو چاہیں اس سے کروالیں تو ٹیلی ویژن کا ایک سیٹ ہے جس کی یہ عام صفات آپ کو معلوم ہیں کہ بڑی اچھی صفات ہیں لیکن بہت کم لوگ یہ غور کرتے ہیں کہ ٹیلی ویژن بنانے کے لئے کتنے علم کی ضرورت ہے اور کتنے مختلف قسم کے علوم کی ضرورت ہے اور صنعت و حرفت میں کس کس چیز پر کمال کی ضرورت ہے اور اس کے ہر پرزے کے لئے انسانی علم کے کتنے وسیع