خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد ۱۰ 222 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء الله اولا در یں گے اور بہت برکت تمہارے نفوس میں دیں گے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل درست تاریخی واقعہ ہے۔واقعہ اس زمانے کے لحاظ سے 5 لاکھ کے قریب یہودی وہاں ہلاک کئے گئے اور مسجد کو دوبارہ نیست و نابود کر دیا گیا۔پس دو دفعہ ہیکل سلیمانی تعمیر ہوا اور دو دفعہ برباد ہوا۔یہ سب کچھ جب ہو چکا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُرْحَمَكُمْ وَ اِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ حَصِيرًا ابھی بھی خدا تعالیٰ کو ہو سکتا ہے تم پر رحم آجائے یعنی یہ دو ہلاکتیں پوری ہو گئیں۔دو پیشگوئیاں اپنے وقت پر پوری ہو کر ختم ہوئیں لیکن عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ یہ کب ہونا ہے اور کس طرح ہونا ہے اس کے متعلق اسی سورۃ کے آخر پر یہ آیت ہے ، جو آنحضرت ﷺ کے زمانے کے مضمون سے تعلق رکھنے والی آیت ہے اور اسی مضمون میں گھری ہوئی یہ آیت ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ رحم کا واقعہ دور آخر میں حضرت محمد مصطفی امیہ کے زمانے میں آپ کی امت کے وقت میں ہونا تھا۔چنانچہ فرمایا: وَ قُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاء وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا ( بنی اسرائیل: آیت (۱۰۵) کہ جب وہ وعدہ آخر آئے گا جب کہ ساری دنیا سے تمہیں اکٹھا کر کے دوبارہ اس زمین پر لے کر آنا ہے تو اس وقت خدا کی تقدیر ایسا انتظام کرے گی اور تم سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔یہ واقعہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔گزشتہ تاریخوں میں یہود بار بار فلسطین پر بستے رہے لیکن ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ۔Diaspora یعنی وہ سارا علاقہ جہاں یہود منتشر ہوئے تھے ، ان تمام علاقوں سے دوبارہ اکٹھے کئے گئے ہوں۔یہ تاریخ عالم کا پہلا واقعہ ہے۔پس دیکھیں قرآن کریم کی پیشگوئیاں کس صفائی اور کس حیرت انگیز شان کے ساتھ پوری ہوئی ہیں اور آئندہ پوری ہوں گی۔پس یہود کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ان پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی تقدیر نے تم پر رحم کھاتے ہوئے اور Natsi نانسی جرمنی میں تم پر مظالم کی جو حد ہوگئی تھی ان کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا کہ بہت ہو چکی ، شاید اب تم نے سبق سیکھ لئے ہوں تمہیں معاف کر دیا گیا اور تمہیں دوبارہ وہاں ایک غلبہ عطا کیا گیا۔اس غلبے کو توڑنے کی مسلمان حکومتوں کو طاقت نہیں ہوگی کیونکہ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ایک فتنہ اٹھے گا جو عراق اور شام کے درمیان سے اس چھوٹے سے سمندر کے رستے سے