خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 191
خطبات طاہر جلد ۱۰ 191 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء تھیں کہ جس طرح فلاں سیاستدان نے اقتدار حاصل کیا، اس سے پہلے دو کوڑی کا چپڑاسی یا تھانیدار تھا یا کچھ اور محکمے کا افسر تھا، استعفے دیئے اور سیاست میں آیا اور پھر اس طرح کروڑ پتی بن گیا اور اتنی عظمت اور جبروت حاصل کی۔آؤ ہم بھی اس کے نمونے پر چلیں۔آؤ ہم بھی سیاست کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کریں تو پھر تم نے سیاست کی ہلاکت کا اسی دن فیصلہ کر لیا اور تم اگر کسی قوم کے راہنما ہوئے تو تم پر یہ مثال صادق آئے گی کہ : واذا كان الغراب هاد قوم سيهديهم طريق الهالكين کہ دیکھو جب کبھی بھی کوے قوم کی سرداری کیا کرتے ہیں تو ان کو ہلاکت کے رستوں کی طرف لے جاتے ہیں۔پس نیتوں کی اصلاح کرو اور یہ فیصلے کرو کہ جو کچھ گزر چکا گزر چکا ، آئندہ سے تم قوم کی سرداری کے حقوق ادا کرو گے، سرداری کے حقوق اس طرح ادا کرو جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے تمام عالم کی سرداری کے حق ادا کئے تھے۔وہی ایک رستہ ہے سرداری کے حق ادا کرنے کا اس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں۔حضرت عمرؓ جب بستر علالت پر آخری گھڑیوں تک پہنچے اور قریب تھا کہ دم تو ڑ دیں تو بڑی بے چینی اور بے قراری سے یہ دعا کر رہے تھے کہ اے خدا!! اگر میری کچھ نیکیاں ہیں تو بے شک ان کو چھوڑ دے میں ان کے بدلے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر میری غلطیوں پر پرسش نہ فرمانا۔مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اپنی غلطیوں کا حساب دے سکوں۔یہ وہ روح ہے جو اسلامی سیاست کی روح ہے۔اس روح کی آج مسلمانوں کو بھی ضرورت ہے اور غیر مسلموں کو بھی ضرورت ہے۔آج کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ سیاست کی اس روح کو زندہ کر دو۔مرتی ہوئی انسانیت زندہ ہو جائے۔یہ روح زندہ رہی تو جنگوں پر موت آجائے گی لیکن اگر یہ روح مرنے دی گئی تو پھر جنگیں زندہ ہو گئیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت جنگوں کو موت کے گھاٹ اتار نہیں سکتی۔میری کوشش تو یہی تھی کہ تمام مضمون آج ہی ختم کر دوں لیکن چونکہ وقت بہت زیادہ ہو چکا ہے اور ابھی بہت سے ایسے مشورے باقی ہیں جن کو مختصر بھی بیان کیا جائے تو وقت لیں گے اس لئے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبے میں میں خدا تعالیٰ سے بھاری امید رکھتا ہوں