خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 487

37 جلسہ سالانہ کی حقیقی کامیابی کا تعلق عبادت کے حق ادا کرنے حضرت نواب محمد عبداللہ خان سے ہوگا۔۔جو عبادت گزار دل ہوں اللہ تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور صحابہ کو خدا تعالیٰ نے جو عبادت کے قیام کی توفیق بخشی وہ تابعین تک بڑی شدت سے جاری رہی۔۔حضور ﷺ کی عبادات کو اپنی عبادات کا قائمقام نہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا عبادت سے تعلق ہے۔عبادت تمام نیکیوں کا سر چشمہ ہے۔۔عبادت میں بے حیائی یہ ہے کہ انسان خدا کی بجائے دوسرے انسان سے شرمائے۔۔339۔114۔۔286۔۔53۔279۔۔282۔عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے ذکر کو اپنے اعمال میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔۔117۔280۔۔آپ کو باجماعت نماز سے عشق تھا۔۔حضرت عبدالمطلب آنحضرت ﷺ کے دادا۔۔عبودیت اللہ کی غلامی کے بعد انسان ہر دوسری غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔۔285۔۔۔362۔300۔جتنا رضا میں آگے بڑھیں گے اتنا ہی عبودیت میں داخل ہوجائیں گے۔مقام عبودیت۔۔۔298۔۔۔295۔۔۔۔۔۔۔35۔۔34۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت عثمان غمی 74,35,34,6 آپ نے آنحضرت مے کو دل کی آنکھ سے پہچانا 74 حضرت علی کے دور حضرت عثمان سے مقابلے شروع ہوگئے آپ بھی سنت محمد مصطفی میں پر چلنے والے تھے 34 عبادت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی پیروی کرے۔۔۔۔280 عدل عبادی عبادی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیار اور شفقت کا اظہار ہے۔52۔۔۔علی۔عدل و انصاف محبت الہی اور بنی نوع انسان سے محبت مذاہب کا سرمایہ ہیں۔۔عیسائیت میں عدل کا تصور۔۔جب تک انسان خدا تعالیٰ کا عبد نہ بنے اس وقت تک ذکر الہی کوئی معاشرہ عدل کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔کی توفیق نہیں ملتی۔۔294۔عدم 267۔۔237۔197۔۔عبادت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی پیروی کرے۔۔۔۔280 سائنسدانوں کے مطابق عدم کی تعریف یہ ہے کہ کوئی چیز عبد اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے آقا کے تابع ہو جائے۔عبد شكور۔۔280۔101۔۔۔۔۔۔حضرت سید عبد القادر جیلانی 81 صفات سے کلیتہ عاری ہو جائے۔۔عرب 235۔190,178,177,147,122,112,96,45,42 309,306,206,191 آپ بڑا فاخرانہ لباس پہنا کرتے تھے۔81 عرب ذہن کسی عجمی کی اطاعت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔1990