خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد اول 101 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۸۲ء ہوگی اور اس کی توفیق سے اور اس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رشد و ہدایت پائے گی۔صرف ایک روح کے بچنے پر اس پیکر رحمت کے دل کی یہ کیفیت ہے اور اس پر اظہار شکر کا یہ عالم ہے کہ بار بار کہتے ہیں الحمد للہ الحمد للہ خدا نے مجھے ایک روح کو بچانے کی توفیق عطا فرمائی اور بچنے کے بعد اس بچے کو وقت کونسا میسر آیا ؟ بس کلمہ پڑھا اور دنیا سے رخصت ہو گیا۔صرف اتنی سی ہدایت تھی۔صلى الله صرف ایک لمحہ کی ہدایت تھی لیکن اس پر آنحضور م ﷺ عبد شکور بنتے ہوئے اپنے رب کے حضور جھک جاتے ہیں۔یہ ہیں ہمارے آقاومولا سید نا حضرت محمد مصطفی ہے جن کی غلامی کا ہم نے دعویٰ کیا ہے۔آپ میں بصیرتوں کے منبع اور مادی اور مجمع۔اب آپ سے سارے نور پھوٹیں گے جو خدا کی طرف لے جائیں گے۔پس یہ وہ بصائر یعنی روشنیاں تھیں جن سے دنیا اپنے رب کے نور سے جگما اٹھی تھی۔اب اگر ان نوروں کو جماعت نے اپنے تک روک لیا اور بنی نوع انسان اور محمد مصطفیٰ " کے درمیان حائل ہو گئے تو یاد رکھیں اس وقت بنی نوع انسان اپنے رب کو کبھی نہیں پاسکیں گے۔اور آپ لوگ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔کیونکہ آپ کو ذریعہ بنایا گیا ہے۔آج خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے اور حضرت محمد مصطفی عدلیہ کی عظمت کو دنیا سے منوانے کا فریضہ آپ کو سونپا گیا ہے اس لئے آپ اپنی نظروں کو سطحی نہ بنائیں۔اپنی نگاہوں کو ان ظاہری مناظر کے پردوں تک نہ رہنے دیں بلکہ آگے بڑھیں۔بلند نظری پیدا کریں اور حقیقت حال کو پانے کے لئے آپ خود پار اترنا سیکھیں اور اپنے رب تک پہنچنا اور بندوں کو رب تک پہنچانا سیکھیں۔اس کے بغیر نہ حضرت محمد مصطفی عے کی غلامی کا حق ادا ہو گا اور نہ اپنے رب کی عبودیت کا حق ادا ہو گا۔یا درکھیں جب تو میں خالق کا ئنات کو بھلا کر مخلوق کے حسن میں کھو جاتی ہیں تو پھر ان سے شرک پھوٹا کرتے ہیں اور جب ایسی قوموں سے شرک پھوٹتے ہیں تو پھر اللہ تعالی آنحضرت علی اللہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اے رسول! تو نے اپنا فرض پورا کر دیا۔تو وکیل نہیں ہے۔اب میں جانوں اور یہ لوگ جانیں جنہوں نے مجھے پانے کے بعد بھی مجھے کھو دینے کے سامان اپنے ہاتھوں سے کر لئے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے رب کی عبودیت اور حضور اکرم علی