خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 478

خطبات ناصر جلد نهم ۴۷۸ خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۸۲ء سے نہ اور وٹی اور نہ کھاؤ۔تو تمہاری حفاظت کے لئے میں نے کیا ہے لیکن دل تو میرا یہی چاہتا ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔دل تو میرا یہی چاہتا ہے کہ ہر انسان جو بیمار ہو گیا اس کو خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ دوا میسر آجائے اور اسی وجہ سے ہم نے جہاں اس قسم کے حالات نہیں جیسے ہمارے ملک میں ہیں ہسپتال کھول دیئے۔دل ہمارا چاہتا ہے کہ ہر انسان خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں کے نتیجہ میں جو علوم پیدا ہوئے ہیں اسی کے ہم نے بہت سے انٹر میڈیٹ کالج کھول دیئے ،سکول کھول دیئے۔یہ حقیقت ہے کہ افریقہ کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جن میں ہمارے جانے سے پہلے ایک پرائمری سکول بھی نہیں تھا کسی مسلمان کا۔اور اس وقت سینکڑوں احمد یہ سکول کہلاتے ہیں وہ۔پرائمری سکول ، مڈل سکول اور انٹر میڈیٹ کالج کے برابر ہائر سیکنڈری سکول (انٹر میڈیٹ کے برابر ہے ان کا معیار ) کھولے۔میں یہاں پرنسپل رہا ہوں۔مجھے حکم تھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا کہ یہ کالج تبلیغ کے لئے نہیں اس لئے ہے کہ ہماری قوم تعلیم میں بہت پیچھے ہے، ان کو تعلیم میں آگے کیا جائے۔یو نیورسٹی کہتی تھی جتنے لڑ کے داخل کرو ان کے دس فیصد کو تم Half Fee Concession دو۔میں نے اپنی منتظمہ سے اجازت لے کے اور ان کے علم میں لا کے، پچاس فیصد کو Full Fee Concession بھی دے دیا اور مراعات بھی دے دیں کیونکہ جماعت کی پالیسی یہ تھی اور سینکڑوں ایسے ہونہار بچے کہ جو تعلیم حاصل ہی نہیں کر سکتے تھے اگر وہ میرے پاس نہ آجاتے ، ان کو تعلیم دلوائی۔ہر فرقے سے ان کا تعلق تھا، ہر علاقے سے ان کا تعلق تھا، ہر تعصب سے ان کا تعلق تھا میں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔میں نے کہا تم مستحق ہو مالی لحاظ سے اور ذہین ہو۔تمہاراحق بنتا ہے وہ تمہیں مل جائے گا، جہاں تک میری طاقت ہے۔اور اس کا بڑا اچھا نتیجہ نکلا۔یہاں تو چونکہ اور بھی کالج ہیں ، نظر نہیں آتا۔پچاس سال سے جماعت احمد یہ افریقہ میں کام کر رہی ہے۔اب تو ہماری دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی کچھ سکول اور کالج کھولے ہیں لیکن ایک وقت ایسا آیا بیچ میں کہ افریقہ میں کوئی پڑھا لکھا افریقن ایسا نہیں تھا جس نے جماعت احمدیہ کے کالج میں یا سکول میں تعلیم نہ حاصل کی ہو۔ایک بھی نہیں تھا۔بڑا پیار