خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 432 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 432

خطبات ناصر جلد نهم ۴۳۲ خطبہ جمعہ ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء اور یہ صفت جو ہے یہ فیض کا ثمرہ بخشتی ہے یعنی وہ ہل جاتی ہے۔جنت مل جاتی ہے مالکیت یوم الدین کے نتیجے میں اور اس کے لئے انسان کو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھنا نہیں بلکہ شروع کرنا ہے اپنے جسم کو مضبوط کرنا خاص مقاصد کے لئے یعنی کھیلنا، کھانے کو ہضم کرنا، جسم میں صلاحیت پیدا کرنا لیکن مقصد دنیا نہ ہو بلکہ دین ہو۔یہ جو آج کل کھیلیں ہو رہی ہیں نا اس سے مجھے خیال آیا کہ کھیلوں کا فلسفہ آپ کو بتا دوں۔مقصد ہے یہ کہ ہمارا ذہن کمزور نہ ہو جائے جسم کی کمزوری کے ساتھ ، جسم کی بیماری کے ساتھ۔مقصد یہ ہے کہ ہمارے اخلاق پر ہمارے دبلے پتلے نکے جسم جو بوجھ نہیں اٹھا سکتے وہ بیچ میں روک نہ بن جائیں۔مقصد یہ ہے کہ اخلاق اچھے ہونے کے بعد ہم روحانیت میں ترقی کرنے والے ہوں۔اس لئے آج باسکٹ بال کا جو ٹورنامنٹ ہو رہا ہے میرا پیغام ان کے نام یہ ہے ورزش کی روح کو سمجھتے ہوئے کھیلیں کھیلیں۔یعنی یہی کہ ورزش کے نتیجے میں ہم نے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق عطا کرے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کھیلنا بچوں یا جوانوں کا کام ہے۔غلط ہے اس قسم کی کھیل واقع میں ، بچوں اور جوانوں کے لئے ہے۔سمجھ دار ، ثقہ، بڑی عمر کے لوگوں کو اس قسم کی کھیل کی ضرورت نہیں لیکن بڑی عمر کے لوگوں کو بھی جنت میں جانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اپنی ساری صلاحیتوں اور استعدادوں کی کامل نشو و نما کی ضرورت ہے جس میں جسمانی صلاحیتیں اور استعدادیں بھی شامل ہیں۔اس واسطے جو بڑی عمر کے ہیں وہ بھی جہاں تک ہو سکے ورزش کریں۔عمروں کے ساتھ ورزشوں کی شکل بدل جاتی ہے اس میں شک نہیں لیکن عمروں کے ساتھ ورزش کرنے سے نجات نہیں مل جاتی اور نہ تو پھر وہی کسی نے کہا تھا کہ روح تو کہتی ہے کہ یہ قربانی دوں مگر جسم ساتھ نہیں دیتا۔مومن وہ ہے جس کا قربانی کے وقت ہمیشہ ہی مرتے دم تک جسم ساتھ دیتا ہے اور گھبرا تا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور پیار کو ہم حاصل کرنے والے ہوں۔